سائبر کرائمز کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے،سینٹر روبینہ خالد

37712143_2098296243830585_8434735626636492800_n.jpg

اسلام آباد:سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے چیئرپرسن سینٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سائبر کرائمز کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کریں تاکہ سوشل میڈیا پر فیک اکاونٹس سے ہونے والی جرائم  اور فیک نیوز کا سدباب ممکن ہو۔

ان خیالات کا انہوں نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی، سینٹر رحمان ملک،سینٹر ثناء جمیل ،سینٹر فیصل جاوید،سینٹر ڈاکٹر اشوک کمار،سینٹر فدا محمد، سینٹر کلثوم پروین اور دیگر متعلقہ حکام  نے شرکت کی۔

سینٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کچھ روز سے سوشل میڈیا پر مجھ سے منسوب ایک پوسٹ وائرل ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کے گھر سے 14 من سونا برآمد ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ دن قبل اس فیک نیوز کو رپورٹ بھی کیا لیکن ابھی تک متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔انھوں نے متعلقہ حکام سے شکوہ کیا کہ آپ لوگ کب ایکشن لیں گے تاکہ عام معزز شہریوں کی عزت مفت میں  داؤ پر لگنے سے محفوظ ہوں۔

سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر ہمارے پارلمینٹرینز اور خصوصاً چیئر پرسن خود اسی طرح کے مشکلات سے دوچار ہے تو باقی عوام کا تو خدا  ہی حافظ ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ مسئلہ سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اس حوالے سے متفقہ طور حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

سنیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ لوگ عمر بھر محنت کرتے ہیں اور اپنا ایک مقام بنالیتے ہیں لیکن اسطرح کی فیک نیوز چلنے سے لوگوں کے عزت نفس مجروح ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج یہ ہمارے ساتھ ہورہا ہے کل کو یہ حکومتی ارکان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے

سینٹر فدا محمد نے بتایا کہ آئے روز لوگوں کو موبائیل پر بے نظیر انکم سپورٹ  کے فیک نیوز ملتے ہیں لوگ شکایات درج کرلیتے ہیں لیکن پی ٹی اے کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔

سینٹر کلثوم پروین نے کہا کہ بغیر تحقیق کی خبر کو جرم قرار دیا جائے تاکہ اس طرح کی فیک نیوز کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

بعد ازں  اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین عامر عظیم باجوہ نے انکشاف کیا  کہ پاکستان میں پورنوگرافی مٹیریل بننے کے حوالے سے شواہد نہیں ملے۔

چیئرمین پی ٹی اے نےا نکشاف کیا کہ پاکستان میں پورنوگرافی مٹیریل بننے کے حوالے سے شواہد نہیں ملے، وزیراعظم نے بھی پورنوگرافی کے حوالے سے پی ٹی اے سے بریفنگ لی ہے، چائلڈ پورنوگرافی میں پی ٹی اےکا کردار مواد بلاک کرنےکی حد تک ہے۔۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تک پورنوگرافی کی 8 لاکھ ویب سائٹس بلاک کی گئی ہیں جن میں چائلڈ پورنوگرافی کی 2384 ویب سائٹس بلاک شامل ہیں، اس کے علاوہ 11 ہزار پراکسی ویب سائٹس کو بھی بلاک کردیا ہے۔

عامر عظیم نے مزید بتایا کہ گوگل سے پورنو گرافی ٹرینڈ کی تفصیلات مانگی تھیں، گوگل رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پورنوگرافی ویب سائٹس کی جانب رجحان کم ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top