ملک میں بدترین طرز حکمرانی کی تاریخ لکھی جا رہی ہے، ثمر ہارون بلور

Unofficial-result-ANP-won-PK-78-seat-turnout-remain-low-e1549202708705.jpg

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور PK 78 سے رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ملک میں بدترین طرز حکمرانی کی تاریخ لکھی جا رہی ہے اور سیاسی کلچر کو ختم کرکے سول آمریت کو فروغ دینے کے اثرات صاف نظر آ رہے ہیں جو ملک و قوم کے لئے خطرناک اور ملکی سالمیت کے لیے نیگ شگون نہیں ہے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کئے جانے والے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام نے نئی حکومت سے جو توقعات لگا رکھی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں ، حکومت چھ ماہ کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے .

انہوں نے موجودہ حکومت کے معاشی پالیسیوں پر نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے ملک کے معیشت سنبھال نہیں ہورہی اور معاشی اصلاحات کی بجائے باہر سے خیرات مانگنے پر زور لگایا جا رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور فرزندان توحید پر بیت اللہ کے دروازے بند کرکے ذہنی پستی اور بدنیتی کی عکاسی کر دی ہے.

ثمر بلور نے کہا کہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے احکامات پر روپے کی مسلسل بے قدری سے حکومت نے عوام کی پریشانیوں اور مشکلات میں اضافہ کردیاہے۔ حکمرانوں کے پاس ملک چلانے کا کوئی وژن نہیں اور نہ ہی ان میں کوئی صلاحیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار پر براجمان سمجھ چکے ہیں کہ وہ مسلسل ناکامی کی طرف جارہے ہیں اور عنقریب بند گلی میں کھڑے ہونگے۔

ثمر بلور کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت احتساب کے نعرے پر آئی تھی مگر احتساب کو متنازعہ بنانے اور مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کر سکی۔

انہوں نے کہاکہ احتساب کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تو یہ ملک و قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا ،انہوں نے کہاکہ ملک میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے اور اس کے برعکس حکومت ابھی تک خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں ہے۔ گڈ گورننس اور قانون کی حکمرانی نہ ہوتو نتیجہ ہمیشہ صفر ہوتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top