آپریشن ضرب عضب کے بعد شمالی وزیرستان 

DSC_0128-e1549102013488.jpg
شمیم شاہد
پہلا حصہ
دہشت گردی اور انتہا پسندی سے زیادہ متاثر شمالی وزیرستان میں حکومتی اداروں اور عہدیداروں کے دعووں کے باوجود امن و امان کی صورتحال اتنی تسلی بحش نہیں ہے جبکہ سرکاری عہدیداروں اور عام لوگوں کے درمیان ماضی کی طرح اب بھی کافی فاصلے دکھائی دیتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں تحصیل دتہ خیل اور شوال میں دہشت گردی کی خطرات کے پیش نظر عام لوگوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں اور جون 2014 کے فوجی کاروائی ضرب عضب کے نتیجے میں یہاں سے نقل مکانی کرنیوالوں کی واپسی نہیں ہوئی ہے اور اسی وجہ سے 15 ہزار خاندان اب بھی بنوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ افغانستان کے سرحدی صوبے خوست سے واپس آنے والے ہزاروں خاندان بنوں سے ملحقہ نیم قبائلی علاقے بکاخیل میں قائم خیمہ بستی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
بنوں سے شمالی وزیرستان داخل ہوتے ہی سیدگی چیک پوسٹ سے لیکر افغانستان کے ساتھ گزرگاہ غلام خان، شوال اور جنوبی وزیرستان سے ملحقہ رزمک تک قدم قدم پر سیکورٹی اہل کار صبح سے شام تک امن وامان قائم رکھنے کیلئے پہرے دے رہے ہیں جبکہ علاقے کے تمام اہم سڑکوں اور راستوں پر دن بھر سیکورٹی اہلکاروں کے دستے پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے گشت کرتے رہتے ہیں۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد نے بتایا کہ بظاہر تو حالات اچھے دکھائی دیتے ہیں مگر اندرونی طور پر حالات انتہائی مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کے وقت دیہی علاقوں میں اب بھی مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی اور گشت نے عام لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔
تاہم بعض لوگوں کا کہناہے کہ طویل عرصے تک اس علاقے میں عسکریت پسندوں کا راج تھا جس کی وجہ سے نہ صرف یہاں پر ریاستی عملداری کمزور رہی تھی بلکہ اس علاقے کے زیادہ تر لوگوں نے نقل مکانی کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں۔
شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا سلسلہ لگ بھگ تین سال پہلے شروع ہواتھا، میر علی اور میران شاہ کے مختلف گاوٗں اور دیہاتوں بالخصوص میران شاہ کو بنوں افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہ غلام خان اور رزمک ملانی والی شاہراہوں کے کنارے آباد گاوٗں میں معمول کی کاروبار زندگی شروع ہونا دکھائی دے رہے ہیں۔
  سیدگی میں  اندارج
خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر بنوں سے لگ بھگ آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر سیدگی میں داخل ہوتے ہی سیکورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں۔ یہاں پر پہنچتے ہی تمام افراد کو چوکی کے اندر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے کھڑے ہوکر انداج کیلئے شناختی کارڈ دینے ہونگے۔
اس سیکورٹی چوکی میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والوں کیلئے دو کھڑکیاں جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور غیر مقامی باشندوں کیلئے ایک کھڑکی ہیں۔ کھڑکی کے سامنے جاکر معلوم ہوا کہ ایک سیکورٹی اہلکا ر جو بغیر وردی کے تھا مگر اُس نے شناختی کارڈ وصول کرنے اور اندارج کرنے سے انکار کردیا۔ جبکہ ان کا ایک ساتھی جو غالباََ شمالی علاقوں چترال یا گلگت بلتستان سے دکھائی دیتا تھا۔ کھانے کھانے میں مصروف تھا۔ کسی سرکاری ادارے کیلئے سامان رسد لے جانے والے ڈرائیور نے جب اندارج کرنے کا کہا تو متعلقہ سیکورٹی اہلکاروں نے ان کا استقبال انتہائی نامناسب الفاظ سے کیا۔
اندراج کرنے کے بعد ایک چھوٹی سی پرچی دی گئی جبکہ گاڑی کا اندارج بھی ایک علیحدہ پرچی پر دیا گیا۔ تھوڑے سے فاصلے پر ایک اور چوکی پر دوبارہ گاڑی میں بیٹھے تمام افراد کی شناخت دوبارہ کی گئی اور انداج والی پرچی کو واپس لیکر آگے جانے کی اجازت دیدیدی گئی۔
میر علی
شمالی وزیرستان کے حدود میں داخل ہو کر کچھ عجیب سا لگا کہ سڑک کے کنارے پر چھوٹے بڑے پہاڑوں پر سیکورٹی کے اہلکار کلاشنکوفوں سمیت پہرے دے رہے تھے۔ ماضی کے برعکس کجھوری چیک پوسٹ کا تماشا بھی عجیب تھا۔ اس چیک پوسٹ کے چاروں طرف سیکورٹی کے اہلکار چوکس کھڑے تھے جبکہ چند سال قبل خودکش حملوں کی زد میں آنے والے چوکیوں کا ملبہ بھی اُسی طرح پڑا تھا۔ کجھوری چیک پوسٹ کے ساتھ ہی واقع گورنمنٹ ڈگری کالج میر علی کی چار دیواری تو حال ہی میں تعمیر کی گئی ہے جو انتہائی خوبصورت دکھائی دے رہاتھا۔ تھوڑے سے فاصلے پر میرعلی قصبے کے حدود شروع ہو جاتی ہے۔ میر علی کے باہر ڈرائیور وں کے ہوٹلوں پر افغانستان سے سامان لانے اور لیجانے والے ٹرک بالکل واضح تھے کیونکہ ان کے رجسٹریشن نمبر بالکل نمایاں تھے۔
میر علی کے حدود میں داخل ہوکر فوج کے زیر انتظام تعمیر کی گئی مارکیٹس انتہائی نمایاں تھے جبکہ اس کے ساتھ ہی مقامی قبائلیوں کے حال ہی میں تعمیر کردہ مارکیٹس اور دکانیں بھی تھی۔ میر علی شہر کے حدود میں فوج کی جانب سے حال ہی میں تعمیر کردہ ایڈن رد آرمی پبلک سکول کی عمارت تھی جس کو دیکھ کر کسی مغربی ملک کے فوجی دفتر کا گمان ہوتا تھا کیونکہ باہر سے نہایت خوبصورت منظر پیش کر رہاتھا۔
میر علی سے اگے سب سے اہم مقام خدی گائوں تھاجہان پر سڑک کنارے پولیس آفیسر طاہر خان داوڑ کی یادگار تعمیر کی گئی تھا۔ اس یادگار پرشہید طاہر خان کا نام انتہائی نمایاں تھا۔ یہاں پر کھڑے ہوکر راقم نے فاتحہ خوانی کی، اس کے علاوہ ہر گزرتے گاڑی والوں کی نظریں بھی اس یادگار پر پڑتی تھی۔
چشمہ سیاحتی مرکز
آگے جاکر چشمہ گائوں تھا،اس کو اب نہ صرف شمالی وزیرستان بلکہ ملک بھر سے آنے والوں کیلئے قابل دید بنایا گیا ہے۔ یہاں پر ایک فٹ بال گراونڈ، ایک سیاحتی مرکز، پارک، شاپنگ مال اور مسجد تعمیر کیا گیاہے۔ چشمہ فٹ بال گراونڈ پر 16 ٹیموں کے درمیان ٹورنا منٹ کا افتتاحی میچ بنوں اورشمالی وزیرستان کے ٹیموں کے درمیان کھیلا جا رہاتھا۔ اس میچ میں میر علی اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما اور فوج کے مقامی عہدیدار اور مہمانوں کے حیثیت سے شامل تھے۔
ایشا چیک پوسٹ
چشمہ سے لگ بھگ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایشا چیک پوسٹ کی عمارت تھی اس چیک پوسٹ پر پہلا کار بم خودکش حملہ 2005 میں ہواتھاجس میں وسط ایشائی ملک قازقستان کے سفارتکار کی چوری کی ہوئی موٹر کار کا استعمال ہوا تھا۔ ایشیاء چوکی پر 2005 سے لیکر جون2014 تک دہشت گردوں کے حملے ہوتے رہتے تھے۔ اب اس چوکی کو دبارہ تعمیر کیاگیا۔ یہ چوکی شمالی وزیرستان کے میران شاہ، رزمک اور میر علی کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں۔ اس سے ملحقہ تحصیل بویا میں اب بھی دہشت گردی اور تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
ایشاچیک پوسٹ سے آئے میران شاہ شہر کے حدود شروع ہوتے ہیں یہاں پر فوج نے آپریشن کے دوران 1341 دکانوں پر مشتمل ایک بڑی کمرشل ایریا کی تعمیر کی گئی۔ زیادہ تر دکانیں خالی تھی۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ ایک دکان کاماہوار کرایہ دس ہزار روپیہ جبکہ پیشگی پانچ لاکھ ہے۔ مارکیٹ کے احاطے میں فوج کے ذیلی حفیہ اداروں کے اہلکار واکی ٹاکی سمیت کافی چوکس تھے اور ان کے موجودگی میں تمام دکاندار اور عام لوگ انتہائی مختاط تھے۔ مارکیٹ سے فاصلے پر میران شاہ کیمپ کا اخاطہ شروع ہوتا ہے۔ اس کیمپ میں تمام تر سول اور فوجی عہدیداروں کے دفاتر قائم ہیں۔ کسی بھی شخص کو بغیر اندارج اور میزبان سے اجازت نہ ملنے کے بغیر کیمپ کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔جبکہ زیادہ تر میزبان مصروفیت کا بہانہ بنا کر پشاور یا اسلام آباد سے آنے والے صحافی کے ساتھ ملنا،ہاتھ ملانا اور بات کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھتا۔
غلام خان سرحد
افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہ غلام خان میرانشاہ سے لگ بھگ 18کلومیٹر کے فاصلے مغرب میں واقع ہے۔میران شاہ سے نکلتے ہی ڈانڈے درپہ خیل کا علاقہ شروع ہوتا ہے جو کسی وقت میں حقانی نیٹ ورک کا مرکز رہا تھا۔ڈانڈے درپہ خیل میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کی جانیوالی کاروائی سے متاثر عمارا ت اور گھروں کا ملبہ از خود ہر آنے والے کو ایک روداد سناتا رہتاہے۔میران شاہ سے غلام خان تک بھی سیکورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں جبکہ جگہ جگہ سیکورٹی اہلکار پہاڑوں اور کھیتوں میں کھڑے پہرے دے رہے ہیں۔
مسمار اور تباہ شدہ املاک شمالی وزیرستان کے سیدگی چوکی میں پہنچنے کے بعد نہ صرف ڈانڈے درپہ خیل بلکہ میرعلی،میرانشاہ اور دیگرگائوں اور دیہاتوں میں خودکش بم حملوں اور ضرب عضب کے فوجی کاروائیوں کی زد میں آنے والے املاک کے ملبے دکھائی دیتے ہیں۔میرعلی سے باہر کھجوری میں ایک ایسے پیٹرول پمپ کا ملبہ بھی اسی طرح ہے۔اس پیٹرول پمپ میں بیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سے اکثریت ڈرائیوروں کی تھی۔
ازسرنو تعمیرات
شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں سڑک کے کنارے بالکل نئی تعمیرات کی گئی ہے اور کئی جاری ہے۔ نقل مکانی کے باعث اب ماضی کے نسبت تعمیرات میں کافی جدت دکھائی دیتا ہے اور سڑک کے کنارے اب کئی منزلہ تجارتی مارکیٹس کی تعمیر بھی عام ہیں۔ اہم سڑکوں اور شاہراہوں سے فاصلے پر واقع گائوں اور دیہاتوں میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں تبا ہ ہونے والے زیادہ تر گھروں اور املاک کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تباہ شد ہ املاک کے مالکان ابھی تک روپوش ہیں۔
لوگ خوفزد ہ اور محتاط
شمالی وزیرستان کے مختلف گائوں، دیہاتوں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے عام لوگ حکومت، حکومتی اداروں بالخصوص سیکورٹی اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے پالیسوں اور کارکردگی سے خوش دکھائی نہیں دیتے۔ مختلف سطح پر ہونے والے گفتگو اور گپ شپ سے معلوم ہوا کہ لگ بھگ 80 فیصد لوگ ابھی تک غیر مطمین، مایوس اور خوفزدہ ہیں۔ مگر یہ لوگ کسی بھی قیمت پر آن دی ریکارڈ بات کرنے بالخصوص ذرائع ابلاع کے نمائندوں سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں۔
(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top