گورنر کا پشاور یونیورسٹی کے کانوکیشن میں شرکت نہ کرنے پر طلباء کا اظہار افسوس

ad8b3b93-5b5e-4244-84db-88afcf3b07dd.jpg

پشاور : یونیورسٹی آف پشاور کا کانوکیشن برائے تعلیمی سال 2016 میں گورنر شاہ فرمان کی شرکت نہ کرنے کے بعد وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی نے طلباء وطالبات میں 323 ڈگریاں تقسیم کی  جس میں 12 اسکالرز کو پی ایچ ڈی ڈگریز اور 9 کو ایم فل ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ اس موقع پر 25 فارغ التحصیل طلبا وطالبات میں گولڈ میڈل تقسیم کئے گئےکانوکیشن کی تقریب کانوکیشن ہال میں جمعہ کی صبح منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں والدین کو مدعو کیا گیا تھا۔

کانوکیشن کے مہمان خصوصی صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر اور پشاور یونیورسٹی کے چانسلر شاہ فرمان تھے جو کہ دوسرے سرکاری مصروفیات کی وجہ سے کانوکیشن میں شرکت نہیں کرسکیں۔

کانوکیشن میں شریک شعبہ صحافت سے فارغ التحصیل میمونہ اختر نے “دی پشاور پوسٹ ” کو بتایا کہ میں آج بہت خوش ہوں کہ میں نے اپنی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے اس کامیابی کا صلہ والدین اپنے اساتذہ کرام کے نام کیا۔انہوں نے گورنر شاہ فرمان کا کانوکیشن میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گورنر صوبے میں تمام یونیورسٹیز کا چانسلر ہوتا ہے۔

میمونہ نے کہا کہ یہ کانوکیشن دراصل 6 مہینے پہلے ہونا تھا لیکن گورنر صاحب کی شرکت کی وجہ سے اسکو ملتوی کرنا پڑا،اب چونکہ 3 مئی کو خود اُس نے شرکت کرنے کی تصدیق کیا تھا لیکن کانوکیشن کے دن ایک امپارٹنٹ میٹنگ کا کہہ کر وہ شرکت نہ کرسکیں جس کی وجہ سے طلباء میں کافی مایوسی پھیل گئی۔انہوں نے کہا کہ  الیکشن  سے پہلے تو یہ حکومت دعویٰ کررہی تھی کہ ہم صوبے کے تعلیمی نظام کو درست کرینگے اور تبدیلی لائینگے لیکن معلوم ہوا کہ یہ سب صرف محض زبانی  دعوے ہی تھے ۔

شعبہ صحافت کے سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے طالب علم سلمان علی نے بتایا کہ گورنر کا کانوکیشن میں شرکت نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نوجوان نسل اور شعبہ تعلیم کے ترقی میں غیر سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب اسلام آباد میں کرکٹ میچ تو کھیل سکتے ہیں جوکہ اُنکے ذاتی مصروفیت ہے لیکن صوبے کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ کے کانوکیشن میں شرکت کیلئے حاضر نہ ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلکل تعلیم کے شعبے کے ساتھ مذاق کر رہا ہے جو کہ قابل افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آج تک پچھلے سال پشاور یونیورسٹی کے نہتے طلباء پر ہونے والے تشدد کے واقعے کے  متعلق پارلیمانی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لاسکے۔

گورنر کے شرکت نہ کرنے ہر وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان رجسڑار جامعہ پشاور ڈاکٹر زاہد گل اور متعلقہ ڈینز نے طلباو طالبات میں ڈگریاں تقسیم کئیں اس موقع پر معذور طلبا و طالبات اپنی ڈگریاں وصول کرنے آئے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا جبکہ بہت سی گولڈ میڈل طالبات نے سٹیج پر آ کر اپنے طلائی تمغوں کو والدین کو دینے پر اکتفا کیا۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر آصف خان نے گورنر و چانسلر شاہ فرمان کی جانب سے طلباو طالبات اور انکے والدین کو دلی مبارکباد کا پیغام پہنچایا اور انکی سرکاری مصروفیات کی وجہ سے عدم دستیابی پر طلباو طالبات اور والدین کو عذر بھی پیش کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top