کیا پاکستانی عورتیں اپنے آئینی حقوق حاصل کرلیں گے؟

images1.jpg
ایاز کاکڑ
چند دن پہلے خواتین کے حقوق کے لیے ملک بھر میں “عورت آزادی مارچ”  کا انعقاد کیا گیا- جس میں پاکستان کے مختلف شہروں میں عورتوں نے پریس کلب کے سامنے پلےکارڈز اٹھا کر اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کی کوششیں کی۔

عورت کی آزادی کے لیے زمانہ قدیم سے جدوجہد جاری ہے- علی عباس جلالپوری اپنی کتاب “روح عصر” میں لکھتے ہیں کہ ” فیثاغورث نے افلاطون سے دو سو برس پہلے عورت کو مرد کے مساوی حقوق دینے پر اصرار کیا- اس کے درس میں جوان لڑکیاں بے تکلف اور بغیر حجاب کے شرکت کرتی تھیں“  اس سے ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ عورت مظلوم تھی اور مظلوم ہے۔میں بذات خود عورت کی مظلومی تسلیم کرتا ہوں- ہمارا معاشرہ عورت کو بولنے کا نہیں صرف سننے اور سہنے کا حق دیتا ہے۔ عورت کو کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے یہاں جب کوئی معمولی کام کرے تو اسے “نر کا بچہ” کہہ کر شاباش دی جاتی ہے۔ عورت کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور دوسری طرف اگر حقیقی پہلو دیکھا جائے تو بسا اوقات ایسا عورت ہی عورت کے ساتھ کرتی ہے مگر مرد بھی اس میں برابر کا شریک ہے اور جواز مذہب و فرسودہ روایت کا دے کر خود کو اس جرم عظیم سے بری کردیتا ہے۔

خیر بات ہورہی تھی “عورت آزادی مارچ” کی تو اس مارچ میں کچھ  دیسی لبرل اور فیمنسٹ عورتوں کی  شرکت اور ذاتی فعل کی حیثیت میں  کچھ غیر سنجیدہ مطالبات جیسا کہ ” مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے” پلےکارڈز سے عورت کے مسائل میں کمی تو نہیں ہوئی البتہ مشکلات میں اضافے کا  باعث ضرور بنی۔ ان کو عورت کے اصل مسائل سے کوئی سروکار ہی نہیں۔ ان کے خیال اور فکر کے مطابق عورت کے اصل مسائل اور فیمن ازم “یہ گرم کرنا وہ گرم کرنا ہے”۔ عورت کے حقیقی مسائل اور مساوی حقوق کے لیے بھی خواتین موجود تھیں جن کے مطالبات میں عورت کے لیے تعلیم، صحت، روزگار کے علاوہ ناانصافی اور معاشرتی رکاوٹیں سے نجات شامل تھے۔

اس حوالے سے ٹویٹر پر ایک امریکی نژاد پاکستانی خاتون کی ٹویٹ دیکھنے کو ملا جس میں وہ کہتی ہے کہ واشنگٹن (امریکہ) میں بھی عورتیں اپنے حقوق کی لیے گھروں سے نکلتی ہیں لیکن ان کے مسائل ہم سے مختلف ہیں اور اتنے مختلف جس کے بارے میں ہم شاید 500 سال کے بعد صرف سوچنا شروع کریں- کیونکہ ان کا شمار ترقی یافتہ دنیا میں ہوتا ہے ترقی یافتہ دنیا مابعدجدیدیت یعنی پوسٹ ماڈرن ازم کے دور میں ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کے معاشرے کا اس دور تک کے سفر میں عورت نے سفر بھی کیا اور کردار بھی ادا کیا۔

اس کے ساتھ ہی ڈیلویلپمنٹ تھیوری کہتی ہے” معاشرہ ایک اورگنزم کی طرح ہوتا ہے جس کا ہر حصہ اور ہر پہلو دوسرے حصوں اور پہلووں سے منسلک ہوتا ہے چنانچہ معاشرے کی ترقی صرف ایک حصے کی ترقی سے ممکن نہیں“ عورت ہمارے معاشرے کا بہت اہم حصہ ہے۔ ہمارا معاشرہ یا سماج کی ترقی عورت کو بنیادی اور مساوی حقوق دیے بغیر  ممکن نہیں پے۔

یہ ہم سب کا سماجی، انسانی، اخلاقی، اسلامی اور معاشرتی فرض بنتا ہے کہ ہم اس خاص اور حساس مسئلے پر سوچیں ، سمجھیں اور اپنی عورتوں کو ان کے حقوق دلانے میں کردار ادا کریں، تعلیم، روزگار، انصاف، سازگار ماحول فراہم کرے کیونکہ صحت مند معاشرے کی جڑیں عورت سے جاملتی ہے۔ باشعور لوگ کہتے ہیں کہ” ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے لیکن ایک عورت کی تعلیم پورے معاشرے کی تعلیم ہے“ اگر عورت کمزور ہو جائے گی تو معاشرہ خودبخود کمزور ہوجاتا ہے اور آج کل ہمارا معاشرہ صرف  کمزور نہیں بلکہ معذوری کی حالات میں ہے۔

عورت آزادی مارچ جیسی تحریکیں ہونی چاہیے اور ہم سب کو اس کی تائید کرنی چاہیے – عورت آزادی مارچ سے مراد صرف خواتین نہیں بلکہ باپ، بھائی،بیٹا اور شوہر ہونے کے ناطے یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کارخیر میں اپنا تاریخی کردار ادا کریں – اس کے علاوہ ہر طبقے، برادری،علاقے سے بالاتر ہوکر عورت کی نمائندگی ہونی چاہیے- ان سب کے اوپر ایک نمائندہ گروہ ہو جو عورت کے حقوق کی صحیح معنوں میں نمائندگی کریں اور وہ لوگ جو موم بتی اٹھا کر یا سڑک پر رقص کر کے اپنی آزادی ثابت کرنا چاہتے ہیں ان حضرات کو اس طرح کے حساس معاملات سے دور رکھنا چاہیے- ایسی غیر سنجیدہ رویہ اس تحریک کے لیے نہایت نقصان دہ ہے کیونکہ ایسے تجربات سے تحریک کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top