پی ڈی ایم بنام سرکار 

242757_5788174_updates.jpg

ایمل خٹک  : تجزیہ کار

پاکستان ڈیموکریٹک مومینٹ کی عوامی رابطہ مھم جاری ہے ۔ تین جنوری کو بھاولپور میں شاندار ریلی کے بعد تیرا جنوری کو ملاکنڈ میں کامیاب جلسے کے انعقاد سے پی ڈی ایم میں انتشار کے خاتمے کے حکومتی دعوے غلط ثابت ھوئے ۔ پی ڈی ایم کے راہنما ثابت قدمی سے اپنی احتجاجی تحریک کو پلان کے مطابق مرحلہ وار لے لیکر چل رہے ھیں اور وقت اور حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی ایڈجسٹ کرکے آگے بڑھ رہے ھیں۔ پی ڈی ایم نے اگر حکومت گرائی نہیں تو اس کی بنیادیں ہلا رہی ہے ۔

 پی ڈی ایم کے حوالے سے حکومت اور اس کی کنٹرولڈ میڈیا مسلسل ڈینائل موڈ یعنی اس کے وجود اور طاقت سے انکاری ہے ۔ شترمرغ کی طرح ریت میں آنکھیں چھپا کر سچائی چھپ نہیں جاتی ،  سچائی سے انکار سے سچائی اپنی جگہ رہتی ہے۔ پی ڈی ایم جیسی مختلف الخیال سیاسی جماعتوں پر مشتمل جمہوری اتحادوں کی اپنی حرکیات ھوتی ہے ۔اتحادوں میں اختلاف نظر ایک فطری امر ہے۔ اتحادوں میں عموما بنیادی مقاصد پر اتفاق رائے جبکہ طریقہ کار اور حکمت عملی پر اختلاف ھوتا رہتا ہے ۔ مگر اختلاف رائے کو آپس میں بحث و مباحثے کے زریعے حل کرتے ھیں ۔

پی ڈی ایم جو سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے خاتمے اور ووٹ کو عزت دو کا بیانہ لے کر چلی ہے نے پہلے مرحلے میں عوامی جلسوں اور ریلیوں کے زریعے کئ اھداف حاصل کی ۔ پی ڈی ایم عوامی ریلیوں اور جلسوں کے زریعے اپنے بیانیے کو عوامی عدالت میں لے جارہی ہے ۔ پہلی کامیابی تو یہ ہے کہ پہلے حکومت کی جانب سے یکطرفہ پروپیگنڈا ھورہا تھا اور حکومتی بیانیے کو چیلنج کرنے کیلئے کوئی موثر آواز نہی تھی ۔ اب اپوزیشن متبادل بیانیے کے ساتھ میدان میں ہے اور موثر انداز میں جواب دے رہی ہے۔ وزیراعظم دفاعی پوزیشن پر مجبور ھوگئے ھیں ۔

حکومتی ایوانوں حکومتی ایوانوں میں پریشانی اور تشویش بڑھ رہی ہےمیں پریشانی اور تشویش بڑھ رہی ہے ۔ کابینہ اجلاسوں میں اب بات ھونا شروع ہوگئی ہے اور حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر تنقید بڑھ گی ہے ۔ عمران خان کی فرعونیت کی وجہ سے کابینہ اجلاسوں میں اکثر اختلاف نظر یا سخت تنقید سے اجتناب کیا جاتا تھا۔ اب اندرونی تنقید بڑھ رہی ہے اور اکثر نوبت تلخ کلامی تک پہنچ جاتی ہے ۔ اب کابینہ اجلاسوں میں کثرت سے  پی ڈی ایم کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ بعض وزراء اب کھلے عام یا دبے دبے الفاظ میں حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ھیں ۔

وزیراعظم دفاعی پوزیشن پر مجبور ہوگئے ھیں ۔ اور پی ڈی ایم کے ھر اجلاس یا جلسے کے موقع پر حکومتی ترجمانوں کی پریس کانفرنسیں حکومت کی حواس باختگی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ وزیراعظم کی بار بار ترجمانوں کے اجلاس بلانا اور ترجمانوں کی اپوزیشن کی بھرپور کلاس نہ لینے پر ان کی گوشمالی اور ھر بار اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے پر زور اور تکرار حکومت کی بدحواسی اور بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت کی میڈیا پالیسی کا محور مین سٹریم اور سوشل میڈیا اپوزیشن کی کردار کشی اور ڈس انفارمیشن مھم ہے ۔

حکومت کی کرپشن کے بیانیے کے تین جُز لوٹا ھوا مال واپس لانا ، کڑا احتساب اور میرٹ کی بالادستی تھے۔ نیب ایک متنازعہ ادارہ بن چکا ہے ۔ حتی کہ اعلی عدالتیں اس کو پولیٹیکل انجینئیرنگ کیلئے استعمال ھونے والہ ادارہ قرار دے چکی ہے ۔ اور نیب کی گرفتاری ، تفشیش اور مقدمات کے پراسس میں کئی سنگین قانونی سقم کی نشاندئی کرچکی ہے ۔ نیب پر حکومتی کنٹرول کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاتا ہے کہ حکومتی وزراء نہ صرف مخالفین کی گرفتاریوں کی پہلے سے خوشخبری دیتی ہے  پہلےگرفتاریوں سے پہلے تحقیقات کو من پسند میڈیا کو لیک کرکے میڈیا ٹرائیل شروع کر دیتی ہے ۔

اب حکومت کی کرپشن کے بیانیے کی غبارے سے ھوا نکل  رہی ہے ۔ حکومت اور خصوصا وزیراعظم کی پارسائی پر سوالات آٹھ رہے ھیں ۔ جیسے جیسے حکومت پر دباؤ بڑھتی ہے ترجمانوں کے اجلاس اور ان کے لھجے میں تلخی اور حواس باختگی بڑھ رہی ہے ۔ اور ان کے پاس کوئی نیا چورن بیچنے کیلئے نہیں ہے ۔ اپنے مسائل سے پریشان حال عوام کو اب این آر او اور کرپشن سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اس طرح چینی ، آٹا اور گندم ، ادویات ، پیٹرولیم اور گیس کے میگا اسکینڈلز اور اس میں حکومتی شخصیات کے ملوث ھونے کے شواہد نے حکومتی بیانیے کی پر خچے آرا دئیے ۔

وزیراعظم کی اپنے بہنوئی کی  غیرقانونی پلاٹ پر قبضہ واجگزار کرنے کیلئے آئی جیز سمیت کئ اعلی پولیس افسران کے تبادلوں کے برملا اعتراف اور اپنے بنی گالہ گھر کو ریگولرائیز کرنے اور علیمہ باجی کے آمدن سے زیادہ اثاثے وغیرہ سے اس کی پارسائی کا پردہ فاش ھوگیا ہے۔ اس طرح بیرونی ذرائع سے پارٹی فنڈز لینے اور اس میں مبینہ خورد برد کے الزام کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں دائر کیس سے فرار بھی اس کا پیچھا کررہی ہے ۔  میگا کرپشن اسکینڈلز میں عمران خان کے قریبی رفقاء اور مختلف مدوں میں اس کو فنڈز دینے والے سپانسرز کی ملوث ھونے کے شواہد اور ان کے خلاف کاروائی سے اجتناب اور بچانے کی کوشش نے کرپشن کے بیانیے کو خود دفن کیا۔

طرز حکمرانی کا یہ حال ہے کہ اھم وفاقی وزارتوں اور محکموں کے سیکرٹریز اور اھم عھداروں کے تبادلے تواتر سے ھورہے ھیں ۔ بدعنوانی ، خراب کارکردگی اور بے قاعدگیوں پر وزیروں کو برطرف کرنے کی بجائے ایک وزارت سے ھٹا کر انھیں دوسری وزارت دیجاتی ہے۔ کئی وزراء کو کرپشن کے الزامات پر ھٹاکر اور اپنے وزراء اور جماعتی ارکان کے خلاف کاروائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اور اس کا کریڈٹ لے کر اب ان میں سے اکثر دوبارہ حکومتی عھدوں پر فائض ھیں ۔ اعظم سواتی ، علیم خان ، عاشق فردوس اعوان وغیرہ کو پہلے کیوں ھٹایا گیا تھا اور اب دوبارہ انھیں اھم ذمہ داریاں سونپنے کی وضاحت  عمران خان ہی کرسکتے ھیں ۔

ملک کے سنجیدہ حلقوں اور حتی کہ حکومتی حلقوں میں  بھی کارکردگی دکھانے کی بجائے ترجمانوں کو اپوزیشن کو ٹف ٹایم دینے اور غلیظ اور بدبودار کردارکشی پر مامور کرنے کے حوالے سے بے چینی اور ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور کچھ مخصوص وزراء اور غیر منتخب مشیروں کے علاوہ زیادہ تر وزراء اس تمام عمل سے لاتعلق نظر آتے ھیں ۔ ٹی وی اسکرین گواہ ھیں کہ وزیراعظم کی شوق انتقام، مسلسل گوشمالی اور شدید دباؤ کی وجہ سے بہت سے نفیس اور سنجیدہ سمجھے جانے والے پی ٹی آئی کی شخصیات بھی غیر مہذب اور ناشائستہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ھیں ۔

کابینہ میں کئی سینیئر پارلیمنٹرین کی موجودگی کے باوجود جو امور حکومت چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ھیں حکومت کی  ناتجربہ کاری کا اعتراف کرکے وزیراعظم نے دراصل اپنی نااہلی اور نالائقی کا ثبوت دیا ہے ۔ مسلہ ٹیم ممبران کا نہیں بلکہ کپتان کی نالائقی کا ہے جو اپنی اناپرستی اور تکبر کی وجہ سے تجربہ کار کابینہ اراکین کی بجائے ناتجربہ کار اور زیادہ تر غیر منتخب مشیران پر اعتماد کرتے ھیں ۔

پی ڈی ایم کے اس بیانیے کہ وزیراعظم ایک سلیکٹیڈ وزیراعظم ہے اور ھماری لڑائی ان سے نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر اور الیکشن چوری کرکے ان کو لانے والے سلیکٹرز یعنی اسٹبلشمنٹ سے ھے نے ملکی سیاست میں ھل چل مچا دی ہے ۔ اسٹبلشمنٹ پر سیاست میں مداخلت اور دھاندلی کے الزمات کوئی نہیں بات نہیں مگر اپوزیشن نے بعض اھم عسکری شخصیات کا برائے راست نام لیکر ان پر موجودہ حکومت کو برسراقتدار لانے اور حکومت کو سنھبالنے دینے کا الزام لگاکر قومی سیاست میں ارتعاش پیدا کیا ۔ اس طرح سے اپوزیشن نے نہ صرف موجودہ حکومت کو سلیکٹیڈ کہہ کر اس کی قانونی اور اخلاقی جواز کو نشانہ بنایا بلکہ حکومت کو لانے والے سلیکٹرز یعنی اسٹبلشمنٹ کو بھی آڑے ھاتھوں لیا ۔

پی ڈی ایم مسلسل اور ثابت قدمی سے اسٹبلشمنٹ کی پولیٹیکل انجیئنیرنگ کی مخالفت اور اس سے قومی سیاست میں مداخلت سے باز رہنے کا مطالبہ کررہی ہے ۔ پی ڈی ایم کی شدید تنقید کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ سخت دباؤ میں اور پریشان ہے ۔ اسٹبلشمنٹ حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ھونے کا تاثر زائل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اسٹبلشمنٹ اپوزیشن کو غیرجانبدار رہنے کا اشارہ دے رہی ہے مگر اپوزیشن ابھی تک اس کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور اس پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ۔

اسٹبلشمنٹ کے اندر عمران کی روئے ، نالائقی اور نااہلی کے حوالے سے پائی جانے والی  ناراضگی اور بے چینی جو بوجوہ پہلے دبی رہی لیکن اب پی ڈی ایم کی حرکت سے مخالفانہ سوچ اور رائے بھی کھل کر سامنے آنے لگی ۔ اس طرح اب اپنی ساکھ اور وقار کو بچانا اداروں کی اولین ترجیع بنتی جارہی ہے ۔ اسٹبلشمنت کے اندر  عمران خان حامی رائے کمزور ھورہی ہے اور متبادل رائے قوی ۔ عمران حامی حلقے کارنر ھورہے ھیں ۔ اور وہ اب اسٹبلشمنٹ کیلئے بوجھ بنتے جارہے ھیں ۔

عمران خان حکومت نے جس طریقے سے سانحہ مچھ سے پیدا شدہ صورتحال کو ڈیل کیا ہے۔ اس نے نہ صرف عمران کی شخصیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا بلکہ حکومت کی خراب طرز حکمرانی کو بھی بے نقاب کیا۔ نہ صرف وزیراعظم نے انتہائی تکبر اور ضد کا مظاھرہ کیا بلکہ شھداء مچھ کے لواحقین کو بلیک میلر کہنے پر ملک بھر میں شدید ردعمل ھوا۔ اور الٹا عمران خان نے معافی مانگنے کی بجائے اس کی تاویلات دینے شروع کی ۔

عمران خان اپنی فرعونی طبعیت اور تکبر کی وجہ سے سفارتی محاذ پر بھی بری طرح ناکام ثابت ھوئے ھیں۔ پاکستان کی نان نیٹو اتحادی حیثت ختم کرنے کیلئے امریکی کانگرس میں بل کا پیش ھونا ایک نیا سفارتی دھچکا ہے ۔ بل کی منظور سے پاکستان کو ملنے والی امریکی اقتصادی اور فوجی امداد متاثر ھونے کا خدشہ ہے ۔ اسٹبلشمنٹ کی سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے نفرت اور الرجی سے قطع نظر نئی بدلتی عالمی اور علاقائی صورتحال میں عمران خان کی نسبت وہ بیرون ملک بھی زیادہ موثر اور قابل قبول ہے ۔ سعودی اور قطری حکومتوں کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دورے کی دعوتیں ، چینی حکام میں ان کیلئے پسندیدگی اور انڈیا میں خیرسگالی کے جذبات بھی اسٹبلشمنٹ کو سوچنے پر مجبور کررہی ہے ۔

چاہے حکومت لاکھ کہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں یا حکومت خوفزدہ  یا پریشان نہیں ۔ ھوسکتا ہے ایسا ھو ۔ مگر پی ڈی ایم کے ظہور اور اس کی احتجاجی تحریک اور حکومت کی سردمہری سے سنجیدہ حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں دو اھم باتوں کا ذکر بیجا نہ ھوگا ایک تو حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر نہ چلنے پر سنجیدہ حلقوں کی تنقید کا سامنا ہے اور دوسرا اس پر محاذ آرائی ختم کرنے کیلئے ڈائیلاگ شروع کرنے کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

عمران خان جیسے ضدی ، متکبر اور شدید نرگیسیت کی حامل شخصیات کچھ بھی کرسکتے ھیں ۔ پی ڈی ایم کی عوامی مقبولیت اور اس کو چیلنج کرنے کی وجہ سے زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ غیر جمہوری اور فسطائی ہتھکنڈوں کے استعمال کی طرف مائل ھوجائینگے اور اختلاف رائے دبانے اور مخالفین کو دبانے کیلئے  سخت اقدامات کرینگے ۔ وہ پہلے ہی اپنے کئی مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا چکے ھیں ۔ مسلم لیگی راھنما رانا ثناء اللہ کی مثال ھمارے سامنے ہے کہ ایسے ان کو منشیات کی اسمگلنگ کے ایک جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top