مردان میں محنت کش عورت جلسہ،خواتین کا صوبائی حکومت سے مساوی اُجرت کا مطالبہ

a3d46a20-bf60-4c89-93f8-a5c590c96cb8-e1552246122557.jpg

مردان:عوامی ورکر پارٹی کے صوبائی صدر شہاب خان خٹک نے کہا ہے کہ حکومت محنت کش خواتین کیلئے مساوی اُجرت کا بندوبست کریں اور گھریلو مزدور کار  خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وومن ڈیموکریٹک فرنٹ خیبر ہختونخوا کے زیر اہتمام مردان میں "محنت کش عورت جلسے ٰ” سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کی طرف سے ملازمین کے تنخواہوں میں کٹوتیاں، مہنگائی،بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ پر خاموشی وہ محرکات ہیں کہ جن کے براہ راست اثرات محنت کش خاندانوں اور محکوم قوموں و مذاہب سے تعلق رکھنے والی عورتوں پر پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ان محکوم طبقے کے لوگوں کی زندگیاں بہت اجیرن ہوگئی ہے ۔

انہوں نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اِن پالیسیوں کو ترک کیا جائے اور عورت کی برابری، ترقی اور آزادی کے لئے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر ایسے پالیسیاں بنائے کہ جس سے ان محکوم لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی و اطمینان آسکیں۔

جلسے میں پشاور،نوشہرہ،بونیر،صوابی،ملاکنڈ،سوات اور مردان سے تعلق رکھنے والے خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور صوبائی حکومت سے اپنے آئینی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔

 

جلسے میں  شریک سماجی کارکن گلالئی اسماعیل نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ حکومت خواتین پر جبر و تشدد اور استحصال سے آزادی کو یقینی بنائے تاکہ خواتین بااختیار ہوجائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے تمام محنت کش خواتین کو متحد رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مل کر ان فرسودہ ڈھانچے کے خلاف جمھوری اور آئینی طور پر آواز اٹھائینگے جو ریاست، سماج اور خاندان کے سطح پر عورت کی برابری ، ترقی اور آزادی کا راستہ روکتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ تعلیم ، صحت، روزگار اور رہائش  ریاست کی ذمہ د اری ہوتی ہے لہذا تمام شہریوں کو ایک جیسے سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top