والدین بچپن سے ہی بچوں کو ہاتھ دھونےکی ترغیب دیں،ڈاکٹر کنیز فاطمہ

f582d8e3-b007-4559-860b-56de0cab992e.jpg

پشاور:بچوں میں ہاتھ دھونے کی عادت ڈالنے اور صفائی کی اہمیت اُجاگرکرنے کیلئے پاکستان سمیت دُنیا بھر میں‘گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے’منایا گیا۔

جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک نے ہیلپنگ ہینڈ ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (ایچ ایچ آر ڈی) اسلام آباد کے تعاون سے بچوں میں اس دن کی اہمیت کو اُجاگرکرنے کے لئے یونیورسٹی پبلک اسکول (یو پی ایس) پشاور میں ایک آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ حیدری،وائس پریزیڈنٹ (پی یو ٹی اے)،شعبہ سوشل ورک کے چیئرمین ڈاکٹر شکیل احمد،ہیلپنگ ہینڈ ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (ایچ ایچ آر ڈی) اسلام آباد کے ڈائریکٹر کوارڈینشن اینڈ لیزان عرفان بشیر،یونیسف کے کیمونیکشن ہیڈ سہیل کے علاوہ یونیورسٹی پبلک سکول کے پرنسپل رفیق خٹک نے شرکت کی۔

اس عالمی دن کا مقصد سکول کے بچوں میں صفائی و ستھرائی کی ترغیب دینا ہے تاکہ ننھے منھے بچے بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔تقریب میں سکول کے طلبہ نے ہاتھ دھونے کے عالمی دن کے مناسبت سے تقاریر کی اور صفائی کی اہمیت پر ایک ڈرامہ بھی پیش کیا۔

سکول کے اساتذہ اور شعبہ سوشل ورک کے طلباء نے اسکول میں کلاس ون سے لے کر کلاس فور کے بچوں کو سمجھایا کہ وہ ہر سرگرمی سے قبل ہاتھ صاف کرنے کی عادات ڈالیں اس کے علاوہ صفائی ستھرائی کے عمومی تصور اور اپنے آپ کو صاف رہنے کی تلقین کی گئی۔

تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ حیدری،وائس پریزیڈنٹ (پی یو ٹی اے) نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اگر ہم حفظان صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل کریں تو ہم اپنے آپ کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

شعبہ سوشل ورک کے چیئرمین ڈاکٹر شکیل احمد نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو ہاتھ دھونے کی عادت سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انہیں مختلف بیماریوں سے قبل از وقت بچایا جا سکے۔

تقریب کے آرگنائزر اور شعبہ سوشل ورک کے اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ابرار نے "دی پشاور پوسٹ”کو بتایا کہ تقریب میں بچوں نے مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔سکول کے اساتذہ نے خود کو صاف رکھنے اور کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے شوق میں بچوں نے جراثیم کو مار بھگانے کے عزم کے ساتھ ہاتھ دھونے کی مشق بھی کی۔

سوشل ورک کے طلباء نے بچوں میں 200 صابن پیکٹس کے تحفوں کو تقسیم کیا اور ساتھ ہی انہیں یہ طریقہ بھی سکھایا گیا کہ ہاتھوں کو کس طرح دھویا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top