جمائمہ آفریدی:قبائلی اضلاع سے پہلی خاتون کرکٹر کی زندگی کا سفر

IMG-20200924-WA0184.jpg

اسلام گل آفریدی

سخت روایات پسند معاشرے میں آنکھیں کھولنی والی جمائمہ آفریدی نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم تک رسائی ممکن بنائی بلکہ اُنہوں نے قومی سطح پر مختلف کھیلوں میں اپنی قسمت آزمائی ۔ سکول اور کالج کے سطح پر کھیلوں میں باقاعدہ حصہ لیتی رہی لیکن قومی سطح پر اپنے علاقے کے نمائندگی کرنے کیلئے جب والد سے اجازت کی بات آئی تو اُن کے سامنے بہت ہی مشکل مرحلہ آیا ۔

”مجھے ہمیشہ والدین کے طرف سے پور ا مدد ملا لیکن کھیلوں میں حصہ لینے کی باقاعدہ اجازت کی جب بات آئی تو میرے لئے کافی مشکل تھاکہ اُن (والد) کے سامنے یہ کہوں کہ میں نے اعلیٰ سطح پر کھیلوں میں حصہ لینا ہے ۔ ہمت کرکے میں نے والد صاحب کو کہا تو اُن کا جواب تھا کہ اگر آپ کوشوق ہے او رآپ کچھ بننا چاہتی ہے تو ضرور کھلیں ۔ آ ج بھی مجھے یاد ہے کہ اُسی لمحے میرے لئے خوشی کا انتہاء نہیں تھا”۔

جمائمہ آفریدی کا کھیلوں سے لگاءو بچپن ہی سے تھا ۔ سکول اور کالج میں مختلف سطح پر ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیتی رہی تاہم اُنہوں نے 2017 میں بین الصوبائی کھیلوں کے مقابلوں میں بغیر کسی تربیت کے حصہ لیا اور مارشل آرٹ وشو میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے مستقبل میں کھیلوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لئے پہلا قدم رکھا ۔

”وشو میں بہترین کارگردگی نے مجھے حوصلہ دیا ۔ گھروالوں کو بھی معلوم ہوا کہ میرا کھیل کے ساتھ کتنا شوق ہے ۔ پڑھائی کے ساتھ میں نے کھیل کو بھی وقت دینا شروع کردیا ۔ کرکٹ میں شاہد آفریدی سے متاثر تھی اور چاہتی تھی کہ میں بھی نام پید ا کرسکوں ۔ بچپن میں لڑکوں کے ساتھ میں اکیلی لڑکی کرکٹ کھیلتی تھی ۔ نومبر2018 میں فرسٹ خیبر پختونخوا ویمن لیگ میں حصہ لیا جو کہ ایک بہت اچھا موقع تھا اپنے صلاحیتوں کو منوانے کا ۔ وہاں پر سینئرز اور کوچز نے میری بیٹنگ اور باولنگ کو دیکھ میری کافی حوصلہ افزائی کیں”۔

پشتون اور خاص طور پر قبائلی معاشرے میں خواتین کو بمشکل تعلیم کے حصول کی اجازت دیا جاتا ہے جس کے وجہ سے ان علاقوں میں شرح تعلیم ملک کے دیگر حصوں کے نسبت کا فی کم ہے۔جمائمہ کاکہنا ہے کہ اُنہوں نے خود اور والدین نے اُن کے اور دوسرے بہنوں کے تعلیم کے حصول کے حوالے سے بہت باتیں سنے لیکن اس میں شدت تب زیادہ ہوئی کہ جب میں کھیل کے طرف آئی اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ پڑھائی کے ساتھ کھیلوں میں بھی حصہ لیتی ہے۔اُنہوں نے کہاکہ میں نے لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے اپنے اصل مقصد تک پہنچے پر توجہ دی ۔

”میرے والدین کو خاندان والو ں اور رشتہ داروں نے کہاکہ آپ نے پہلا غلط فیصلہ کرکے اُن کوشہر میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی اور اب اُس نے کھیلوں میں بھی حصہ لینا شروع کردیا ہے جس کے وجہ سے وہ ہمارے بدنامی کا سبب بن رہی ہے ۔ میرے والدین میرے ساتھ تھے تو میں نے کسی کا کوئی پرواہ نہیں کیا اور اپنے منزل کے طرف اپنے سفر کو جاری رکھا”۔

جمائمہ کے ولد ملک شیر شاہ آفریدی ضلع خیبر کے اُن چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کاموقع دیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹی کو کھیلوں میں بھی حصہ لینے کی اجازت دی ۔ وہ خود مقامی فورسز خاصہ دار فورس ( پولیس ) سے صوبیدار میجر رریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اپنے نوبچوں جن میں چار بیٹے اور پانچ بٹیاں ہیں،سب کو بلاتفریق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور زندگی کے کسی شعبے میں نام پید اکرنے کا موقع فراہم کیا۔

”ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں پر لڑکیوں کی تعلیم تو دور کی بات لڑکے بھی تعلیم کے حصول سے محروم ہے۔میں نے بچوں میں بیٹے اور بیٹی کے تعلیم وتربیت میں کوئی فرق نہیں رکھا اور سب کو برابر مواقع فراہم کیں۔ جب میں نے اپنے بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تو رشتہ داروں اور علاقے کے لوگوں نے کافی باتیں کیں اور جب سے جمائمہ نے کھیلنا شروع کیا تو لوگو ں کے ردعمل میں مزید شدت آئی لیکن میں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوں میرے بیٹیاں ضرور تعلیم حاصل کریگی اور جس شعبے میں جانا چاہتی ہے تو جاسکتی ہے ۔ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوا” ۔

پشتون معاشرے میں خواتین گھر کے ضروریات پورا کرنے کے لئے دور دور پانی اور جنگلات سے جلانے کے لئے لکڑی لاتے ہیں لیکن تعلیم کے حصول کی اجازت بہت کم خاندانوں کی طرف سے لڑکیوں کو دیا جاتاہے۔جمائمہ کاکہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں خواتین بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جن میں ایک طرف تو تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے جس کے وجہ سے بہت سے لڑکیوں کو گھر سے دور جانے نہیں دیا جاتا جبکہ بعض اوقات گھر والوں کے طرف سے اُن کو تعلیم کی حصول کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ۔

”میرا خیال ہے موجودہ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ لڑکیوں کے تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ خواتین کا کام صرف گھر کے کام کاج نہیں کرنا ہے بلکہ وہ زندگی کے دوسروں شعبوں میں بھی اپنے آپ کو منوا سکتے ہیں ۔ قبائلی اضلاع کے نئے نسل میں کافی صلاحیتیں موجود ہے لیکن بس صرف اُن کو موقع دینا چاہئے ۔ جب میں اپنے رشتہ دار لڑکیوں یا سہیلیوں کے ساتھ ملتی ہوں تو وہ کہتے ہیں آپ بہت ہی خوش قسمت ہے کہ آپ نے اپنے مستقبل کو روشن کیا”۔

ملک شیر شاہ کاکہنا ہے کہ میرے بیٹوں کے تعلیم اور کھیل میں نام پیدا کرنے کے بعد اُن لوگوں کے سوچ میں جو خواتین کے تعلیم کے سخت مخالف تھے کافی مثبت تبدیلی آئی ہے ۔ اُن کے بقول خاندان میں جو لڑکی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے اور اُن کو کوئی مسئلہ درپیش آتی ہے تو وہ ضرور مدد کے لئے اُن سے ہی بات کرتے ہیں کیونکہ اُن کو معلوم ہے کہ وہ ضرور اس سلسلے میں رہنمائی کرینگے ۔

”میں علاقے میں لڑکیوں کے حوالے سے لوگوں کے ساتھ بات کرتا ہوں اوراُن کو اس کی اہمیت کے بارے میں بتاتاہوں۔موجودہ وقت میں اس حصے یعنی پرانے سوچ میں کافی تبدیلی آئی اور اب لوگ اپنے بیٹوں کے تعلیم کی مخالفت نہیں کرتی۔ خاندان میں لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ آگے جائیں اور تعلیم حاصل کریں”۔

جمائمہ نے ابتدائی تعلیم گاءوں کے ایک سکول سے حاصل کی۔اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے اُنہوں نے پشاور کا رُخ کرلیا اور موجودہ وقت میں وہ قانون کی ڈگری کررہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے لئے بھی مختلف سطح پر کام کررہی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top