چھاتی کینسر کے حوالے سے مزید آگاہی کی ضرورت ہے،طبی ماہرین

103954359_6eb714a7-2feb-47a3-b7c6-4e84e8dd9f0c.jpg

اسلام گل آفریدی

عائشہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور پچھلے ایک سال سے علاقے میں ایک امدادی ادارے کے ساتھ کا م کررہی ہے اور یہی اُن کے خاندان کے آمد ن کا واحد ذریعہ ہے۔اُنہوں نے اپنے بیماری کے بارے میں بتایا کہ ایک سال پہلے چھاتی کے بائیں طرف میں درد محسوس ہونا شروع ہوئی،گھر میں معمولی دوائی لیکر کچھ حد تک درد تو کم ہوجاتا لیکن ساتھ بخار کی بھی شکایت پیدا ہوتی تھی۔

اُن کاکہنا ہے کہ جب ماں کو تکلیف کے بارے میں بتایا تو اُنہوں نے مشورہ دیا کہ معائنے کے لئے قریب سرکاری ہسپتال چلی جائے،لیکن باربار وہاں سے علاج کرنے کے باوجود بھی کوئی خاص فرق نہیں ہوا لیکن جب الٹراساؤنڈ کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ چھاتی کے بائیں حصے میں گلٹی ہے۔عائشہ کو اندازہ ہواکہ وہ اُن کا سامنا ایک جان لیوا مرض کینسرسے ہے لیکن اُن کو شرم اور غربت کی وجہ سے ممکن نہیں تھاکہ وہ گھر میں کسی کو بتائے لیکن آفس میں کام کرنے والے دوسرے خواتین نے اُن کو علاج کروانے میں اُن مدد کی اور پشاور کے ایک سرجن نے اُن کی معمولی سرجری کرکے بروقت گلٹی نکال دی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اکتوبر کا مہینہ چھاتی کا کینسر کی آگاہی طور پر منایاجاتاہے جس کابنیادی مقصد لوگوں میں اس خطرناک بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ڈاکٹر اسد پرویز بریسٹ سرجری کے ماہر ہے، اُن کاکہنا ہے خواتین کے اموات سب سے زیادہ چھاتی کینسرسے ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ پچھلے پندرہ سالوں میں کینسر کے بارے میں آگاہی، بروقت تشخیص اور علاج کے بہتر طریقوں سے 90فیصد مریض علاج کے بعدموت سے بچ جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستان میں نو یا دس میں سے ایک خاتون عمر کے کسی بھی حصے میں چھاتی کے کینسر کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے اور یہ اعداد شمار دنیا کے دوسرے ممالک کے نسبت کافی زیادہ ہے۔

اُن کاکہنا تھا کہ پوری ملک میں ہرسال نوے ہزار یعنی روزانہ 110خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جبکہ سالانہ چالیس ہزار خواتین اس مرض سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ڈاکٹر اسد کے مطابق پورپی خواتین میں چھاتی کینسر کے عمر ستر سال جبکہ یہاں پر چالیس سال یا اس سے کم عمر میں انتہائی زیادہ مریض سامنے آتے ہیں جوکہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

ڈاکٹر اسد پر ویز کا کہنا ہے چھاتی کینسر کے اصل وجوہات اب تک سامنے نہیں آئے البتہ انسانی جسم ہارمونز کے غیر فطری عمل او رخلیوں کے بے ترتیب تقسیم وہ عوامل ہیں جن کے وجہ سے چھاتی کینسر کے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔اُنہوں نے کہ ا س بیماری کی پہلی علامت چھاتی میں گلٹی کا پیدا ہونا ہے جوکہ بعد میں معمولی درد، بریسٹ کا چمڑہ سخت اور ا ندر کے طرف کھنچاؤ پیدا ہوتاہے۔اُنہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں متاثر جگہ سے زخم بند جاتاہے جہاں سے خون آنا شروع ہوجاتاجبکہ بعض اوقات نیپل سے خون باہر نکل آتاہے۔

پشاور میں ایک شوکت خانم اور ارنم ہسپتال کینسرکے مریضوں کے علاج کرواتاہے لیکن یہاں پر صوبے بھر کے علاوہ ہمسایہ ملک افغانستان اور پنجاب کے مختلف اضلاع سے بھی مریض علاج کے لئے آتے ہیں جس کے وجہ سے مریضوں کا بروقت علاج ممکن نہیں ہے۔

پشاور کے کینسر ہسپتال ارنم کی کنسلٹنک گائنالوجسٹ ڈاکٹر نسیم بیگم نے جرنل آف کالج آف سرجنز اینڈ فزیشنز میں ایک اداریے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں چھاتی کا کینسر وبائی شکل اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ قومی کینسر کنٹرول پروگرام (این سی سی پی) ابھی تک تیار نہیں کیا جا سکا، جس میں تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔ انہوں نے اس کی وجہ سیاسی عزم کی کمی، بیوروکریسی کا گنجلک نظام، ماہرین کی عدم دلچسپی کو قرار دیا ہے۔

ضلع باجوڑ کے چالیس سالہ زربی بی کئی سال پہلے جب ارنم ہسپتال لآئی تو تشخیص کے بعد ڈاکٹروں نے بتایاکہ اُن کے چھاتی کے دائیں طرف گلٹی موجود ہے جس کو آپریشن سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ساس اور خاندان کے دوسرے خواتین نے اُن کو دم او ر گھریلوں ٹوٹکو ں سے علاج کا مشور ہ دیا۔ چھ مہینے بعد جب وہ علاج کے لئے دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئی تو آپریشن سے دائیں طرف کی چھاتی کو مکمل ہٹایا گیا۔

چھاتی سرطان کے علاما ت اور آگاہی کے باوجودبھی بعض خواتین اس خوف کے وجہ سے نہیں آتے کہ اُن کی پوری چھاتی کاٹ دی جائیگی، چھاتی سرطان کے ماہر ڈاکٹر آمنہ نے اس حوالے سے کہاکہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کیونکہ 70فیصد مریضوں کے معمولی سرجری ہوتی ہے جس میں صرف گلٹی کو ہٹایا جاتا ہے جبکہ تیس فیصد کیسز میں بڑا آپریشن ہوتا ہے لیکن جدید طریقہ علاج میں جسم کے دوسرے کو حصے کاٹ کر یادوسرے طریقے سے بریسٹ بنائے جاتے ہیں۔

اُنہوں نے کہاکہ چھاتی سرطان کے مختلف مرحلے ہوتے جن میں زیر و پہلا جبکہ چار آخری ہوتاہے۔اُنہوں نے کہاکہ ماضی میں ستر فیصد خواتین مرض کے خطرناک مرحلے یعنی آخری تیسرے اور چوتھے جبکہ تیس فیصد ابتداء اور پہلے مرحلے میں علاج کے لئے آتے تھے لیکن موجودہ وقت میں شعورو آگاہی کی وجہ سے ستر فیصد خواتین پہلے مرحلے میں علاج کے لئے آتے ہیں جو کہ کافی خوش آئند ہے۔

کلثوم پشاوریونیوسٹی سے ماسٹر کرچکی ہے باوجود اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شہر میں زندگی گزرنے کے باوجود بھی جب اُن کو چھ سا ل پہلے چھاتی کے بائیں طرف درد اورگلٹی محسوس ہونا شروع ہوئی تو کئی ہفتے بعد اُنہو ں اپنے بڑی بہن کو اس حوالے سے بتایا۔ کلثوم نے کہاکہ لیڈی ریڈنگ ہستپال میں معائنے کے بعد ڈاکٹر نے چھوٹی سرجری سے گلٹی نکال دی لیکن چند مہینے بعد دوبارہ چھاتی میں گلٹی محسوس ہوئی اور اُس ڈاکٹر کے پاس گئے اور دوبارہ سرجری کا مشورہ دیا۔ اُنہوں نے کہ دوسرے ڈاکٹر سے مشورے کے بعداُنہوں نے ادویات ہی تجویز کی اوروہ مسئلہ ختم ہوا۔

ڈاکٹر اسد پرویز کیمطابق عورت اپنا معائنہ خود کرسکتی ہے جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مہینے میں ایک بار ضرور ہاتھ سے پوری جسم کو مل لیں اور جائزہ لیں کہ جسم میں کوئی گلٹی تو محسوس نہیں ہورہی ہے۔اُنہوں نے کہ اگر اُن کو کچھ محسوس ہو تو وہ ضرور اپنے خاندان والوں کو بتائے تاکہ اُن کا بروقت علاج ہوسکے اور یہی آپ کو موت سے بچا سکتاہے۔

ماہرین کے مطابق چھاتی میں ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی اور ہر مریض کا علاج سرجری سے نہیں بلکہ ادویات سے بھی علاج کیاجاتاہے۔طبی ماہرین اور حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستانی خواتین میں چھاتی کے کینسر کے شرح ایشیاء کے دوسرے ممالک کی نسبت کافی زیادہ ہے۔ بی ایم سی پبلک ہیلتھ نامی طبی جریدے ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں چھاتی کے کینسر کی شرح میں 2020 کے آخر تک 23.1 فیصد اضافے کی توقع ہے، جب کہ یہی شرح 2025 میں بڑھ کر 60.7 فیصد ہو جائے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top