ماحولیاتی تباہ کاریوں کے روک تھام کے لیے جبہ ڈیم تعمیر ضروری

Pic-1-e1598126499341.jpg

اسلام گل آفریدی

جمرود جبہ گاؤں کے مضرف شاہ آنے والے دنوں اپنے خاندان کے بہت سے لوگوں کو چھو ڑ کر جائینگے جس کا اُن کے ساتھ ایک لمبے عرصے کا رشتہ قائم تھا۔جسمانی طور پر یہ لوگ اُس کے پاس موجود نہیں البتہ ایک بڑے قبرستان میں دفن ہے۔ گاؤں کے لوگوں کو اس فیصلے پر عمل کرنے کو 2008 میں طوفانی سیلاب آنے کے بعد کہا گیا ہے۔ مضرف شاہ نے بتایا کہ اُ ن کے علاقے میں زرعی زمین بنجر ہوئے اور رقبے میں کمی ہوئی، پھلدار پودے ختم ہوئے، قبرستان کے چار میں سے تین حصے سیلابی پانی میں بہہ گئے، پن چکی تاریخی قصوں تک محدود ہوگئے ہیں۔

2009سے علاقے میں جبہ ڈیم کے نام سے ایک بارانی ڈیم کے تعمیر کے لئے سروے کا کا م شروع ہوا اور مقامی آباد ی کو حکومت کے جانب سے کہا گیا کہ علاقے میں تعمیراتی کام اور لاشوں کے مقامی قبرستانوں میں تدفین پر پابندی ہوگی۔ضلع خیبر کے تحصیل جمرود جوضلع پشاور کے سرحد پرمغرب کے جانب واقع پاک افغان شاہر اہ پر واقع ہے، لیکن مقامی لوگ بجلی اور پانی جیسے بنیادی سہولیات سے کئی دہائیوں سے محروم ہے جبکہ جمرود کے شمالی حصے کے پانی کے کچھ حد تک ضروریات ورسک ڈیم سے نکلا ہوا نہر پورا کرتا ہے۔

2008 اور 2010 میں تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے نہ صرف ضلع خیبر کے بلکہ ضلع پشاور اور ملک کے مختلف علاقوں میں بھی کافی تباہی اپنے ساتھ لے آیا جبکہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔صوبائی حکومت اورفاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے)کے مشاروت سے فیصلہ کیا گیا کہ جمرود تحصیل کے جنوب مغرب میں جبہ کے مقام پر بارانی ڈیم تعمیر کیا جائیگا جہاں پر مختلف علاقوں سے نکلنے والے طغیانی ایک نقطہ پر ا کٹھے ہونگے۔

ایف ڈی اے میں سمال ڈیم کے حکام نے بتایا کہ ڈیم کے حوالے سے تمام کاغذی کاروائی مکمل ہوچکی ہے اور فنڈ حاصل کرنے کے لئے مختلف ذرائع تلاش کئے جاررہے ہیں۔اہلکار نے بتایا کہ ڈیم کے حوالے سے تین تجاویز زیر غور ہیں جن میں پہلا یہ کہ ڈیم بند کے تعمیر صرف سیلابی پانی کے روک تھا م کے لئے بنایا جائے جس پر خرچہ کم ہو جائے گا جبکہ دوسرا یہ کہ اس کے پانی کو پینے کے لئے صرف مقامی لوگ کے استعمال کے لئے بندوبست کیاجائے اور یا ضلع پشاور کے بڑی رہائشی بستیاں حیات آباد، ریگی للمہ اور اردگرد دوسرے علاقے مستقبل میں پانی کے کمی کے مسئلے سے دوچار ہونگے تو اُس کے لئے انتظام کرناصوبائی حکومت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

ڈیم کے تعمیر کے ساتھ جمرود کے علاقہ شاہ کس میں بڑی سائز میں فلٹر پلانٹ لگانے کے حوالے سے معلومات حاصل کرلی گئی لیکن لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔جہاں سے جمرود اور پشاور کے آبادی کو پینے کے صاف پانی مہیاکرینگے۔ معلومات میں کہا گیا کہ مقامی بنجر زمینوں کو کچھ حد تک فصلیں پید ا کرنے کے لئے پانی بھی مہیاکی جائیگی اور سیلاب کے وجہ سے خیبر اور پشاور میں زمین کے کٹاؤ کے روک تھام اور آبادی کے بچاؤ میں کافی مدد گار ثابت ہوگا۔

ایف ڈی اے کے مطابق فاٹا سیکرٹریٹ اور صوبائی حکومت کے درمیان ایک معاہد طے پایا گیا تھا جس کے تحت ڈیم پر 80فیصد رقم صوبہ جبکہ باقی فاٹا خرچہ کریگی، اس بنیاد پر صوبائی حکومت نے پچھلے صوبائی بجٹ میں صرف ایک کروڑ وپے اس منصوبے کے حوالے سے مزید تحقیق کے لئے مختص کردیئے تھے ۔ ڈیم کے ابتدائی تخمینہ یعنی لا گت پانچ ارب لگایا تھا جس میں صرف سیلابی پانی جمع ہونگے لیکن اگر پانی کو پینے کے قابل بنانا ہونگے تو اس کے لئے فلٹر پلانٹ درآمد کرنا ہوگا اور اسطرح کل لاگت 6.5ارب تک پہنچ جائیگا، اگر پائپ لائن مختلف علاقوں تک پچھانا پڑگیاتو اس کے لاگت میں مزید ایک ارب اضافہ ہوگا اور تخمینہ 7.5ارب روپے سے زیادہ ہو جائینگی۔

خیرمحمد آفریدی جبہ کارہائشی ہے۔اُن کاکہنا ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے سیلابوں نے خطرناک شکل اختیار کر لیا ہے جس کے وجہ سے یہاں پر قدرتی ماحول، انسانوں اور جانوروں کے زندگی پر کافی برُ ے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں ریت اور پتھر نظر آرہے ہیں یہ ساری زرعی زمینیں تھیں جس سے مقامی آبادی کے اجناس، سبزیوں، میوہ جات اور جلانے کے لئے لکڑیو ں کی صورت میں تمام ضروریات پوری ہوتی تھی اور دوسرے علاقوں سے لوگ سیر وسیاحت کے لئے یہاں آ تے تھے۔

پچاس سالہ داؤخان ٹگانوتنگی کا رہائشی ہے اُنہوں نے کہا کہ ڈیم کا منصو بہ جبہ میں ملیشیا چیک پوسٹ کے قریب اُس مقام پر زیرغورہے کہ جہاں ایک طرف سے لنڈی کوتل نکلنے والے پانی جو کہ علی مسجدسے گزرتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں جس کو شودانی شگہ جبکہ دوسری طرف چورہ اور دوسرے علاقوں سے نکلنے والے بارش پانی جس کو تنگی شگہ کہاجاتا ہے ایک نقطہ پر مل جاتے ہیں۔ اُن کے بقول یہاں پر سال بھر پانی بہتا ہے جبکہ گرمیوں میں اس کے مقدار میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈیم کے تعمیر سے قوم کوکی خیل کے سب شاخ کٹھیاخیل کے کندے کولی خیل اور ٹاگان متاثرہونگے، جو ڈیم سے تین کلومیٹرآگے جبکہ دو کلومیٹر پیچھے کا علاقہ شامل ہے۔

محکمہ زراعت خیبر کے مطابق جبہ ڈیم کے تعمیر سے نہ صرف زرعی زمین ددبار ہ آباد ہو جا ئینگے بلکہ زمین کے بڑے پیمانے پر کٹائی کا سلسہ بھی روک جائیگا۔ معلومات کے مطابق دو ہزار ایکٹرز زمین جبہ ڈیم کے مضافات میں بارانی نالے پر واقع ہے جو کافی تیزی کے ساتھ سیلابی ریلوں کے نظر ہورہا ہے۔ادارے کے ایک اہلکا رنے بتایا کہ جبہ ڈیم کے تعمیر سے نہ صرف علاقے کے پینے کا پانی کا مسئلہ حل ہوسکتاہے بلکہ زرعی شعبے کے ترقی میں بھی کافی بہتری آسکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ آ ج کسی بھی ادارے نے ڈیم کے تعمیر حوالے سے محکمہ زرعت سے مشاروت کے لئے رابطہ نہیں کیا ہے۔

ڈیم کے تکنیکی بناوٹ کے بارے میں مہیاکی گئی معلومات کے مطابق مذکورہ ڈیم تعمیر کے حوالے سے سب سے سادہ قسم کا ہوگا جس میں مٹی کا بڑا پک ڈنڈی نما بندبناء کر اُوپر پتھرلگایا جائیگا۔جن علاقوں سے پانی ہوتے ہوئے ڈیم میں جمع ہو نگے اُس کا کُل رقبہ512مربع کلومیٹر ہے جبکہ سالانہ 65.38ملین کیوبک میٹر پانی ڈیم میں آئیگا۔ ڈیم کے تعمیر کے بعد جمع شدہ پانی 566ایکٹرز پر پھیلے گا جبکہ پانی اور اُس کے ساتھ مٹی اور ریت کے حجم کا اندازہ 46.78ملین کیوبک میٹرجبکہ صرف پانی 35.40 ملین کیوبک کے گنجائش کی ہوگی۔ بند کی کل سائز625.85میٹر۔ لمبائی 205میٹر،چوڑائی10میٹرجبکہ لمبائی 66.85ہوگا۔ڈیم سے ہرروز32.3ملین امریکن گیلن ساڑھے چھ سے سات لاکھ آبادی تو صاف پینے کے پانی مہیاکیا جائے گااور ہرسال ٹیوبلز کے لئے استعمال ہونے والے بجلی بلز کے مد میں 85ملین روپے کی بچت ہوگا۔

جبہ کے مقامی باشندے فدا حسین نے کہا کہ یہاں پر کچھ سرکاری لوگ آتے ہیں اور لوگوں کے گھروں اور جائیداد کے بارے میں معلومات حاصل کر کے چلے جاتے ہیں، ٹیم میں خاصدار، انجینئرز اور مزدور ہوتے ہیں لیکن ہم جب کوئی سوال پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جاؤں تحصیل میں معلومات کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ پوری گاؤں کی سروے ہوچکا ہے لیکن گھر گھر معلومات اکٹھے نہیں کی گئی جس کی و جہ سے مقامی لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

مقامی لوگوں کو معاوضہ کے بارے میں ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ جب ڈیم پر کام شروع ہو گا تو پولٹیکل انتظامیہ اورمقامی مشران کے مدد سے مقامی لوگوں میں 18کروڑ ر ستر لاکھ وپے سے زیادہ رقم تقسیم کی جائیگی اور اس حوالے سے تمام معلومات اکٹھے کیے گئے ہیں۔

ایف ڈی اے حکام کے مطابق ادارے کا سالانہ بجٹ 2.7ارب روپے جس سے اتنے بڑے منصوبوں کے تعمیر ممکن نہیں جبکہ دوسری طرف علاقے میں لوگوں کے پانی کے ضروریات پورا کرنا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے صوبائی حکومت، عالمی امدادی اداروں اور بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔

جبہ ڈیم کے تعمیر کے حوالے سے اب تک دو چینی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت ہوئی لیکن حکام نے کہاکہ ڈیم کے تعمیر کے بعد گھروں کو پانی مہیاکرنے کے عوض کی رقم کافی زیادہ بتایاگیا، جس کے بنیاد پر بات آگے نہیں بڑھ رہی تھا اس وجہ سے اُن کے ساتھ بات آگے نہیں بڑھ سکا۔ اس کے ساتھ کنیڈین کمپنی اور یوایس ایڈ کے ساتھ بھی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ سابق ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل نے سڑک اور بجلی کے ضروریات پورا کرنے کے لئے ہائیڈریل پاور کے تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن اُس پر کوئی عمل درآمدنہیں ہوسکا جبکہ الحاج نے 2013 میں انتخابی مہم میں آنے والے پانچ سالوں میں دوسری بڑے منصوبوں کے ساتھ جبہ ڈیم کے تعمیر کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن اس پر کوئی عملی کام نہ ہوسکا اور مقامی آبادی نے اپنے ناراضگی کااظہار کیا۔

ڈیم کے مقام کے اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ انگریز دور میں بھی جمرود قلعہ اور دوسری سرکاری دفاتر میں پانی کے دستیابی کا مسئلہ تھا۔ جبہ میں مقامی لوگوں نے اُن مقاما ت کی نشاندہی کرائی جو اُس دور میں پینے اور دوسری ضروریات پورا کرنے کے لئے پانی کاجو نظام بنایا گیا تھا۔ برساتی نالے میں جگہ جگہ کنویں کھود ے گئے ہیں اُس میں اینٹوں کے دیوار تعمیرکرائی جہاں پرپانی جمع ہونے والے پانی فطری طورپر فلٹر ہوجاتے اور آگے ایک کنویں میں جمع ہوکر وہاں سے جمرودد بازار کے قریب ولی بابا کے قریب تالابوں تک پانی نالیوں کے ذریعے پہنچاکر وہاں سے تقسیم کا نظام بنایا گیا تھا۔

ایف ڈی اے کے مطابق دنیا میں پچھلے کئی سالوں سے موسم میں غیر فطری تبدیلی کی وجہ سے بارشوں کے وجہ سے نقصانات میں سیلاب کے شکل میں کافی اضافہ ہوگیا ہے اورہر سال تحصیل لنڈی کوتل اور جمرود سے نکلنے والے سیلابی ریلے اربوں روپے کا نقصان زرعی زمینوں کے کٹائی، مکانات، سڑکوں اورجانی نقصانات کے شکل میں کر لیتا ہے، جس کے روک تھام میں بھی ڈیم کافی مدد گار ثابت ہوگا۔

اس کے ساتھ زیرزمین پانی کے ذخیرہ میں کمی کی وجہ سے پانی کا سطح 20سے 30فٹ نیچے چلا گیا جس میں بڑی حد تک بہتری کی اُمیدہے جبکہ آنے والے وقت میں زیر زمین پانی کے ذخیر ہ میں اضافہ ہوگا۔ڈیم سے چھ سے سات لاکھ آبادی کوپینے کاصاف پانی مہیاکی جائیگی جبکہ یہ بارانی ڈیم ہوگا جو کہ پچاس سال تک وہی ضروریات پوری کریگا جس مقصد کے لئے بنایا گیا ہے۔

اسی کے دہائی میں تحصیل باڑہ میں سپرہ ڈیم سے جو نہریں نکالی گئی تھی اُس کے ذریعہ جمرودشاہ کس تک آب وپاشی کے لئے پانی پہنچ جاتا تھالیکن وقت کے ساتھ پانی کے غیر مصفانہ تقسیم اور نہروں کے عدم دیکھ بھال کی وجہ سے جگہ جگہ صرف نہرکے آثارنظر آتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top