تجارت ہی پاکستان،افغانستان اور ہندوستان کو قریب لاسکتے ہیں

india-etc.png

اسلام گل آفریدی

طویل عرصے بعد اسلام آبا د نے فیصلہ کرلیا ہے کہ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے(اے پی ٹی ٹی اے) پر آنے والے اگست کے مہینے میں کابل کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا عمل شروع کیاجائیگا۔ معاہدے کی مدت جون 2021 میں ختم ہوجائیگا۔ جولائی2010 میں امریکہ کے شدید دباؤ پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان پرانے معاہدے جو 1965 میں جنیوا کنو نشن کے تحت طے پایا تھاجو کہ چند نئے شرائط کے ساتھ اس میں تو ثیق کردی گئی۔ نئے معاہدے میں ہندوستان کے شمولیت پر کافی اعتراضات تھے جس کے وجہ سے معاہدے کے توثیق کیلئے پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں کئی سال کا عرصہ لگا۔

معاہدے کے تحت ہندوستان کو محدود رکھا گیا اور افغانستان سے تجارتی مال پاکستان کے زمینی راستے ہندوستان کے منڈیوں کے پہنچے کے لئے پاکستان سہولت دینے کا پابند بنایا گیا جبکہ ہندوستان سے کو ئی چیز پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان نہیں جائے گا۔معاہدے میں پاکستان کو وسطی ایشائی ممالک تک رسائی میں افغانستان سہولت کا ر کے طورپر خدمات فراہم کرینگے۔

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں دن بدن مسائل میں اضافے کے بدولت پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ مارچ میں کرونا وباء کے وجہ سے پاکستان نے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی بند کردی جس کے وجہ سے لوگوں کے آمد ورفت کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئیں۔ واہگہ اور طورخم کے بندش سے پاکستان، افغانستان اور ہندوستا ن کے درمیان تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئی جوکہ تقریبا چار مہینے بعد پاکستان نے افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت ہندوستان کے ساتھ 15جولائی سے واہگہ کے راستے دوبارہ تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واحد شینواری پچھلے پندرہ سالوں سے طورخم میں کسٹم ایجنٹ کے طور پر کام کررہاہے۔ پاکستان کے جانب سے افغانستان کو واہگہ کے راستے ہندوستان کے ساتھ دوبارہ تجارت کے اجازت اور سہولت فراہم کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہونگے بلکہ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی میں بھی کمی کا سبب بنے گا۔

سرحد چمبر آف کامر س کے سابق صدر اور تاجر زاہدشینواری نے کہاکہ 2010میں افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت افغان تاجروں کو واہگہ کے راستے تجارتی سامان لے جانے اور پاکستان کو افغانستان کے راستے واسطی ایشائی ممالک کے منڈیو ں تک رسائی میں مددفراہم کرناجبکہ ہندوستان سے تجارتی سامان پاکستان کے زمینی راستے لانے پر پابندی شامل تھی۔

اُن کے بقول طورخم کے راستے افغانستان تازہ اور خشک میوہ جات، جڑی بوٹی،چمڑااورسوپ سٹون ہندوستان لے جاتاہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تجارتی حجم کا اندازہ نہیں کیونکہ صرف محدود پیمانے پر زرعی اجناس ہی برآمد کیا جاتا ہے۔

مقامی تاجروں کے مطابق تاجکستان سے بڑی مقدار میں ہری مونگ دال افغانستا ن سے ہوتے ہوئے طورخم کے راستے ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر مندروں میں تبرکات کے طور پکایاجاتا ہے۔ زاہد شینواری کے مطابق افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں طے پائے جانے والے نکات میں کئی اہم مسائل کے بناء خطے کے تاجروں کو مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہوا جس کی توقع کیاجارہاتھا۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کیا کہ کابل اور اسلام آبادکے درمیان معاہدے کے توثیق کے لئے طویل عرصے سے معطل مذاکراتی عمل شروع ہونے کا امکان ہے جوکہ انتہائی ضروری عمل ہے۔

شینواری نے اس بات پر زُور دیا کہ مستقبل میں افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کے منڈیوں تک رسائی کے سہولت مہیا کرنے کے فیصلے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں پاکستانی مصنوعات کے لئے بہتر ین مارکیٹ موجود ہے۔اُن کاکہنا تھا کہ افغانستا ن سے آنے والے مال برادر ٹرکوں کو بینک گارنٹی کے بجائے انشورنس دینے کی سہولت دینا چاہئے۔

افغان پاک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت صرف پاکستانی ٹرک یا دونوں ممالک کے رجسٹریشن رکھنے والے گاڑیا ں واہگہ سرحد تک تجارتی سامان لے جاسکتا ہے۔ اس شرط کے وجہ سے افغان ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کرونا وباء سے پہلے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے بناء پر دوطرفہ تجارت بھی کافی متاثر ہوا۔

14 فروری 2019 کو پلوامہ حملہ،27 فروری کو ہندوستانی جہاز مارگرانا اور پائلٹ کی گرفتاری اور پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے خصوصی حیثیت کے خاتمے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ہندوستان سے موسٹ فیورٹ کنٹری کی حیثیت ختم کردیا۔

پچھلے ہفتے اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر رواں سال کے اگست کے مہینے سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جائیگا۔ مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد نے اجلاس کو بتایا کہ کھانے کے اشیاء کی برآمدات سے متعلق افغانستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ میں بڑے مسائل موجود ہیں جس کے وجہ سے دوطرفہ تجارت متاثر ہورہاہے۔انہوں نے بتایا کہ افغان سرحد کے قریب انڈسٹریل زون بنانے کی ضرورت ہے.

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ کرونا وباء سے پہلے طور خم کے راستے ہفتے میں تقریبا دوسو ٹرک کلیئر ہوکر واہگہ بھیج دئیے جاتے تھے۔ افغانستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے والے تجارت کے مجموعی حجم معلوم نہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ ایک تو محدودپیمانے پر تجارت ہوتا ہے جس کا باقاعدہ ریکارڈ نہیں رکھا جاتا کیونکہ صرف ذرعی اجناس ہی پاکستان کے راستے افغانستان سے ہندوستان برآمد کیا جاتا ہے۔

رزاق داؤد کا کہنا ہے کہ فروری میں برآمدات میں 14فیصدا ضافہ ہوا، 15مارچ تک یہی صورت حال تھی لیکن مارچ ہی کے آخر میں 6فیصد کمی ہوئی، اپریل میں برآمدات میں 57 اور مئی میں 37 فیصد کمی ہوئی۔ اُ ن کے بقول مجموعی طور پرگزشتہ مالی سال میں برآمدات میں 6.81فیصد کمی ہوئی، جولائی2020 کے پہلے 15دن 3 سے 4 فیصد برآمدات میں کمی آئی۔

زاہد شینواری کے مطابق تینوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت بڑھنے کا بہترین موقع موجود ہے جس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے آسان پالیساں اورتاجروں کو بہتر سہولیات دینا ہوگا۔ تجارت کے فروغ اور کمزور معیشت کو قوت دینے کے لئے پاکستان کو بہتر ین موقع ہے کیونکہ موجودہ وقت میں خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات نے نئی راہ لی ہے۔

وزیر اعظم منتحب ہونے کے بعد عمران خان نے افغانستان کے ساتھ تجارت بڑھنے طورخم سرحد چوبیس گھنٹے کھولنے کا اعلان کیا جس کا باقاعدہ اُنہوں نے خود 18ستمبر 2019کو کیاتھاتاہم توقع کے برعکس دوطرفہ تجارت وہ بہتری نہیں آئی جس کی توقع کی جارہی تھی۔طورخم میں ا ین ایل سی کے جانب سے وسیع ٹرمینل کے تعمیراتی منصوبہ اور مال برادر گاڑیوں کے آمد ورفت میں سست روی اورطویل عمل کے وجہ سے روزانہ بمشکل سو سے ایک بیس گاڑی کلیئر ہوجاتا ہے جبکہ ٹرنزٹ اور پاکستان مصنوعات سے بھرے پانچ سے زیادہ گاڑیا ں پاک افغان شاہراہ پر اپنے باری کے طویل انتظار کرتا ہے۔

مقامی تاجر برادری کے مطابق کے مطابق سرحد سرکاری ادارے اپنے اختیاریات کے غیر قانونی اختیارت استعمال کرکے ٹرنسپوٹروں اور تاجر وں کو پریشان کررہے ہیں۔ 18ستمبر 2019کو کشمیر کے فیصلے کے ردعمل میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی سرگرمیاں احتجاجا معطل کردئیے گئے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 342 ارب روپے ہے جس میں سے پاکستان کی برامدات کا حجم 56 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔پاکستان، بھارت سے پان، چھالیہ، لوہا اور اسٹیل سمیت دیگر اشیا درآمد کرتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں بھارت کو پاکستان کی برآمدات کا محض دو فیصد جب کہ اسی عرصے میں بھارت کی پاکستان کو برآمدات کا حجم محض 3 فیصد رہا۔پاکستان سے بھارت جانے والی اشیا میں زیادہ حصہ تازہ پھلوں، سیمنٹ، پیٹرول کی مصنوعات، معدنیات اور چمڑے کا ہے جب کہ پاکستان میں بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیا میں سبزیاں، کیمیکل، پان، چھالیہ، لوہا، اسٹیل وغیرہ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top