کمزور معیشت:پاکستان کو ہمسایوں کے ساتھ تجارت کا بہترین موقع

download.png

اسلام گل آفریدی

ایشیا میں واقع خطے کے ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات نے نیا رُخ اختیارکرلیا ہے جس کے اثرات طاقتور ممالک پر بھی مرتب ہونگے ۔حالیہ تبدیلی میں پاکستان کے کمزور اقتصادی حالت کو بھی تقویت ملنے کا ایک بہتر ین موقع ہے کیونکہ ماضی میں تمام ہمسایہ ممالک افغانستان ، ایران ، چین اور ہندوستان کے ساتھ غیرمتوازن تجارتی پالیسیاں اور سرحدوں پر درآمدات اور برآمدات میں مسائل کے بناء پر پاکستان نے کافی نقصان اُٹھایا۔

افغانستان کے لئے پاکستان کا نمائندہ خصوصی اور سابق سفیر محمد صدیق نے اپنے ٹوٹیرپرکچھ دن قبل لکھا کہ واہگہ کے راستے افغانستان کو ہندوستا ن کے ساتھ تجارت کے لئے کرونا کے وجہ سے بند تجارتی راستہ کھول رہا ہے جو پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر عمل کو یقینی بنانا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ 15جولائی سے پاکستان کے زمینی راستے سے واہگہ پر افغانستان اور ہندوستان کے درمیان تجارت دوبارہ شروع ہوجائیگا ۔

دوسری جانب خطے کے تین اہم اتحادی ایران ، افغانستان اور ہندوستان کے درمیان مضبوط اقتصادی او رسیاسی تعلقات میں تناءپید ا ہوچکا ہے جس کا براہ راست فائدہ پاکستان کو پہنچے گا بشرطیکہ اسلام آباد ماضی کے پالیسوں کا اثر نو جائزہ لیں ۔ ایران کے چاہ بہا ربندرگاہ کا منصوبہ اصل میں پاکستان کو اقتصادی طورپر خطے میں تنہا کرنا تھا اور کافی حدتک اس میں ان ممالک کو کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔

ہندوستانی میڈیا کے مطابق ایران نے چاہ بہا ر منصوبے میں ریل لائن کے منصوبے سے ہندوستان کو الگ کردیا ہے اور تہران کا موقف ہے کہ نیودہلی نے معاہدے کے تحت مقررہ وقت میں فنڈ مہیا نہیں کی ہے ۔ ایر ان کے فیصلے کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم نریندرمودی نے حزب اختلاف کے بڑی جماعت گانگریس کے جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا او ر کہا کہ اس پیش رفت نے ہندوستان کو خطے میں تنہا ئی کی طرف لے جانا قرار دیا گیا ۔پچھلے دنوں نے ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلام نے 628 کلومیٹر طویل ریل ریلوے ٹریک کا افتتاح کردیا اورکہا کہ تہران اس منصوبے کو اب یک طرفہ طور پرمکمل کریگا ۔

تہران اورنیودہلی کے تعلقات خراب ہونے کے بعد چین نے ایران کے ساتھ طویل مدت تجارتی اور فوجی معاہدے کرلی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پچیس سال تک چین کو خام تیل کم قیمت مہیا کیاجائے گاجبکہ چین بدلے میں ایران کو مواصلات ، صنعتی ترقی اور فوجی ساز وسامان مہیاکرینگے۔ایران پر عالمی پابندیوںکے باوجود بھی چین غیرقانونی طورپر کم قیمت پرکا تیل بڑ اخریدارتھا۔

خطے میں بدلتی صورتحال میں پاکستان کو ایک بہترین موقع ملاہے جس کے بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ سیاسی اور تجارتی تعلقات و پالیسوں کا اسرنو جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر دیکھا جائے توپاکستانی مصنوعات کے لئے سب سے آسان اور قریب منڈی افغانستان کا ہے جوکہ پچھلے کئی سالوں سے کشیدہ سیاسی تعلقات کے بناء پر دو طرفہ تجارت کو کافی نقصان پہنچا ہے اور افغان تاجروں نے کراچی بندرگاہ ٹرانزٹ ٹریڈ اور مقامی مصنوعات کے خریداری کے بجائے دوسرے ہمسایہ ممالک کارُخ کر لیا ہے۔ طورخم کے راستے پاکستان اور دیگر ممالک کے وسطی ایشائی ممالک کے تجارتی منڈیوں تک رسائی بھی ممکن ہے ۔ پاکستان کے چاول، چمڑے کے مصنوعات ، سیمنٹ، سریا اور ماچس کے لئے بہترین مارکیٹ ہے۔

بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور ضم قبائلی اضلاع میں ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ اٹھارہ تجارتی راستے موجود ہیں جن میں زیاد ہ مصروف طورخم اور چمن ہوتا ہے جبکہ خرلاچی، غلام خان اور انگور آڈہ کے راستے محدود پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ہوتے رہے ہیں ، ان مذکورہ راستوں کے علاوہ باقی تمام مقامات سرحد پر دہشت گرد سرگرمیوں کے بدولت پچھلے کئی سالوں سے بند کردیا گیا تھا تاہم اب پہلے کے نسبت امن قائم ہوچکا ہے اور حالت بھی کافی بہتر ہے جبکہ مقامی آبادی کا بھی یہی مطالبہ رہاہے کہ مقامی لوگوں کو روزگارکے مواقع فراہم کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے لئے ان راستوں کا کھولنا بہت ضروری ہے ۔

ستمبر 2019  میں وزیر اعظم عمران خان نے طورخم بارڈر  24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا لیکن بدقسمتی سے وہ نتائج حاصل دکھائی نہیں دیتا جس کے توقعات کیے جارہے تھے ۔ موجودہ وقت میں تین سے ساڑھے تین ہزار مال بردار گاڑیا ں سرحد پار جانے کے لئے دس سے پندرہ دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان کے سرحدی گزرگاہ پر ہونے والے تجارت میں بھی کافی مسائل موجود ہے جس میں بڑا مسئلہ صرف ایرانی مصنوعات کے درآمد ہے اور یہاں سے کوئی چیز برآمد نہیں کیا جاتا ۔

گوادر اور سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کے کامیابی کاانحصار بھی آسان تجارتی پالیسوں پر منحصر ہے۔پلوامہ حملوں اور جہاز گرانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو بھی کافی نقصان پہنچا جو موجودہ وقت میںدوبارہ بحالی کے طرف گامزن ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی اور کشمیر کے معاملے پر تعلقات زیادہ عرصے کے لئے مثالی نہیں رہا ہے جس کے وجہ سے دونوں ممالک کے عوام نے مختلف شعبوں میں خدمات اور سہولیات کے حصول میں بڑا نقصان اُٹھا یاہے ۔ موجودہ وقت میں پاکستان کے جانب سے واہگہ کے راستے افغانستان کو تجارتی سرگرمیوں میں سہولت دینے کے اعلان سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت مزید بڑھنے کے ساتھ سرحد پار کشیدگی کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top