عورت آزاد ،سماج آزاد

20180321-pakistan-disability-226-3000.jpg

مریم حارث کی ایک خصوصی تحریر

ماہ و سال کی گردش ایک بار پھر اس دن کی یادیں سامنے لا رہی ہے کہ جب سرکاری و غیر سرکاری سطح پر پر تعیش سیمینارز محنت کش خواتین کی حالت زار کا رونا دھونا کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آئیں گے.

1867ء میں امریکی شہر نیویارک میں خواتین محنت کشوں نے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے لڑائی کا آغاز اس لئے نہیں کیا تھا کہ حکمران طبقات اور دنیا بھر میں مردو خواتین محنت کشوں ، نوجوانوں اور بچوں کا خون چوسنے والے سامراجی گدھوں کی بھیک میں دی گئی رقوم کو ہڑپنے کیلئے نام نہاد سول سوسائٹی کی زرق برق پوشاکوں میں لپٹی خواتین کو جمع کیا جا کر خواتین پر ہونیوالے مظالم، انکے استحصال، انکے دکھوں، اذیتوں اور لاچارگی کی فروخت کاری میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ہوئے مال کمایا جائے یا خواتین کے زندہ رہنے کیلئے بدترین ممالک کی فہرست میں تمام دنیا میں پیچھے چھوڑ دینے والے ملک کے حکمران خواتین کے تحفظ اور انکی فلاح و بہبود کے بلند و بانگ دعوؤں سے بھرپور تقاریب کا انعقاد کرتے ہوئے اپنی انسانیت دوستی کا ثبوت دیتے پھریں.

آٹھ مارچ کو نام نہاد غیر سرکاری ادارے اس فروخت کاری کے عمل میں مظلوم خواتین کے دکھوں کا سودا کرنے کیلئے بیشمار حربے استعمال کرینگے، خواتین کے حقوق اور انکے فرائض پر مشتمل لیکچر دیئے جائیں گے، نغمے اورترانے ترتیب دیئے جائیں گے، مذہب کو بنیاد بنا کر عورت کی عظمت کے قصیدے سنائے جائیں گے ،لیکن اس سب کے ساتھ محنت کش خواتین کے شب و روز میں حائل مصائب و مشکلات کی وجوہات کو چھپانے کی بھرپور کوشش بھی ہمیں ایک بار پھر نظر آئیگی، سب کو اپنا آپ ٹھیک کرنے، مردوں کو سوچ تبدیل کرنے، خواتین کو پردہ کرنے سمیت ہر سطحی پہلو کو اجاگر کرکے ان مصائب کے خاتمے کیلئے ضروری ٹانک بنا کر پیش کیا جائے گا، مجال ہے اتنی محنتوں اور سرمائے کے استعمال کے باوجود رتی برابر بھی محنت کش خواتین کی مشکلات میں کمی آئی ہو۔

خواتین کی آبادی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن ان میں سے پچاس فیصد غذائی قلت کا شکار ہیں، ہر نو میں سے ایک عورت چھاتی کے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے، ہر سال چالیس ہزار اموات صرف اس مرض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ غذائی قلت کے باعث حاملہ ماؤں کی ایک بڑی روزانہ زندگی کی بازی ہار جاتی ہے، مذہب کے بھیانک استعمال نے پاکستان جیسے ممالک میں خواتین کو گھروں میں قید کر رکھا ہے، پیٹ کی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر خواتین کو گھر سے باہر نکلنے سے لیکر کام کی جگہ تک ہر جگہ خوانخوار نظروں کا سامنا رہتا ہے، محنت کش خواتین کا ایک طرف انتہائی کم اجرت دیکر استحصال کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب جنسی استحصال کی شرح میں بھی روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستانی جیسے سماج میں آج بھی پسماندگی اسقدر موجود ہے کہ خواتین کے زمینوں، کتابوں ، روایات سے نکاح صرف جائیداد کے بٹوارے سے بچنے کیلئے کروا دیئے جاتے ہیں، مرضی سے جیناتو درکنار، مرضی سے مرنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے، یہ صورتحال کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔لیکن انسانی حقوق کے علمبردار سامراجی گدھ اور مقامی حکمران طبقات آٹھ مارچ کی روح کو مسخ کرتے ہوئے خواتین کو روز مرہ کی ان اذیتوں کو برداشت کرنے اور مردوں کو اچھا ہونے کا درس دیکر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مردوں کی نفسیات عورتوں پر تشدد کرنا ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اصل وجوہات پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں قدیم اشتراکی عہد سے سرمایہ داری کی چکاچوند ترقی تک عورت نے مردوں کے شانہ بشانہ سماجی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، تاریخ کے تمام اہم واقعات میں سے عورت کے کردار کو ختم کر دیا جائے تو آج دنیا میں جتنی بھی ترقی ہمیں نظر آرہی ہے اس کا شائبہ بھی نہ ہوگا.

غلاموں کی بغاوتوں سے لیکر سرمایہ دارانہ انقلابات تک اور سوویت یونین کے عظیم انقلاب سے عرب سپرنگ اور وال سٹریٹ موومنٹ تک خواتین نے اپنی موجودگی کا نہ صرف احساس دلایا بلکہ انقلابات کے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ حال ہی میں عالمی سامراج کو سکتے میں ڈالنے والی وحشت اور بربریت کی تمام سابقہ مثالوں کو تہس نہس کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کرنے والی خوانخوار داعش کو کوبانی میں کرد باغی مسلح خواتین کی جانب سے عبرتناک شکست نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ خواتین نہ تو جسمانی طور پر کمزور ہیں، نہ روحانی و دماغی طور پر وہ مردوں سے کسی طور پیچھے ہیں۔

آٹھ مارچ کا دن ہم سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ ہم محنت کشوں خواتین کو درپیش مسائل مشکلات کے اصل موجب کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ 1867ء کو نیویارک میں خواتین محنت کشوں نے جس جدوجہد کی بنیاد ڈالی تھی اس جدوجہد کو حتمی منزل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے اور اس چیز کو سمجھنے کیلئے ہمیں ایک مرتبہ پھر تاریخ کا سہارا لینا ہو گا جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب سے انسانی سماج طبقات میں تقسیم ہوا تب سے ہی خواتین کے استحصال کا بھی آغاز ہوا ہے اور جب تک طبقات میں بٹے سماج سے متحارب طبقات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس لوٹ مار اور استحصال کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا، جہاں محنت کش خواتین کو بے شمار مسائل اور استحصال کا سامنا ہے وہاں مرد محنت کش بھی سہولیات سے بھرپور زندگی نہیں گزار رہے اور نہ ہی مرد محنت کشوں کی نفسیات خواتین پر تشدد اور انکے استحصال کی وجہ ہے، سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی ترقی کے عہد میں ترقی یافتہ ممالک میں صنفی تفریق کو کافی حد تک کم کرتے ہوئے مرد و خواتین محنت کشوں کو سہل زندگیاں فراہم کی تھیں لیکن 2008ء کے عالمی معاشی بحران نے محنت کشوں کی زندگیوں کو پھر سے اجیرن بنا دیا ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں تاخیر زدہ سرمایہ داری اپنے تاریخی فرائض پورے کرنے میں ناکام رہی وہاں محنت کش مردو خواتین کی زندگیاں کبھی بھی خوشگوار نہیں ہو سکیں، آج جب ایک نظام اپنی موت آپ مر رہا ہے تو ایسے میں آٹھ مارچ کا دن ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ محنت کش خواتین طبقاتی بنیادوں پر تقسیم اس سماج سے طبقات کے خاتمے کیلئے مرد محنت کشوں کے ساتھ ملکر ایک مشترکہ جدوجہد کو منظم کریں اورپاکستان سمیت اس کرہ ارض سے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھیں کے جس میں صنفی تفریق سے لیکر استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کرتے ہوئے تمام انسانوں کو بلاتفریق سہولیات فراہم ہو سکیں۔ یہ سب صرف اور صرف جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات پر مبنی ایک مسلسل مستقل مزاج جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے، آٹھ مارچ محنت کش خواتین کا عالمی دن یہی پیغام لئے ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ ہم آگے بڑھیں، مستقبل ہمیں پکار رہا ہے، انسانیت کی ترقی کا مستقبل، استحصال کے خاتمے کا مستقبل، سوشلسٹ فتح کا مستقبل، اٹھوکہ ہمارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں اور پانے کو ساراجہاں پڑا ہے۔۔۔!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top