قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 45 طالبات میں تعلیمی وظائف تقسیم

107384430_770723996998122_647752561410551127_n.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:جامعہ پشاور میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 45 لاء گریجوٹ و طالبات کو وظائف کی تقسیم شروع کردی گئی ہے،ان وظائف کو تین اداروں یو این ڈی پی ، ایس آر ایس پی اور جامعہ پشاور کے مشترکہ زیراہتمام پروگرام قانون کی حکمرانی کے تحت جاری کیا جارہا ہے جس میں وظائف کے ذریعے طالبات کو 50 ہزار روپے اور لاء گریجوٹس و پریکٹسنگ خواتین لائرز کو 90 ہزار روپے دیئے جارہے ہیں۔

تقسیم سرٹیفیکٹ کے موقع پر مہمان خصوصی جامعہ پشاور کے ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سنٹر پروفیسر شبیر احمد خان نے گریجوٹس اور طالبات میں چیک تقسیم کئے، اس موقع پر ان کے ہمراہ جامعہ پشاور خیبر لاء کالج کے پروفیسر سہیل شھزاد اور پشاور یونیورسٹی کے ترجمان علی عمران بھی موجود تھے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں پروفیسر شبیر احمد خان نے کہا کہ وظائف ریاستی و قومی و بین الاقوامی اداروں کی کاوشوں کا مظہر ہے جس سے نچلی سطح تک خواتین وکلاء کے زریعے عدالتی نظام کی اہم اکائی کو مضبوط کیا جارہا ہے جو خوش آئند ہے ۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر سہیل شہزاد نے کہا کہ پراجیکٹ سے نئے ضم شدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی لاء گریجوٹس کو کیریئر تشکیل کرنے میں بڑی مدد ملے گئی جس سے وہ مستقبل میں اپنے علاقوں میں جج ،پروسیکیوٹر ، ڈیفنس کونسل اور عدالتی خدمات میں اپنی معاونت فراہم کریں گی کیونکہ عدالتی و سماجی انصاف اور آئینی جمہوریت کے طور پر خواتین وکلاءکا ان علاقوں میں ہونا اشد قومی ضرورت ہے۔

اس موقع پر یو این ڈی پی کی نمائندہ سلمی زیب نے کہا کہ پروگرام کے زریعے 2011میں مالاکنڈ ریجن میں خواتین لاءگریجوٹس کو پروگرام کے زریعے کوششوں کا آغاز ہوا جس کے ذریعے آج ساٹھ کے قریب خواتین وکلاء عدالتوں میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

اس موقع پر سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے سینئر منیجر ضیاء الدین نے کہا کہ پروگرام سے ضم شدہ علاقوں کی خواتین لاءگریجوٹس کو اپنے علاقوں میں عدالتی انصاف میں خدمات دینے کا موقع اور سوچ فراہم کی جارہی ہے جس کے زریعے وہ ضم شدہ علاقوں میں عدالتوں ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور جیل خانہ جات میں روزگار کے ساتھ ان علاقوں کو قومی دھارے میں اور علاوہ کے برابر لایا جاسکے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پراجیکٹ کے دوران سات روزہ سینئر پروسوکیوٹرز کی تربیت ، دو روزہ کیمونٹی موبلائرز اور پبلک لائزون اہلکاروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ نصابی تشکیل اور دو روزہ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top