کیا ہم سب کو سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟

hhhhh-ffff-222.jpg

جمیل اقبال: تجزیہ کار

آج کل سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کا زمانہ ہے۔ مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹ اور صارفین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔ ان میں سے بعض کے اچھے اور اور چند کے برے اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ تہکال کے شرمناک واقعے سے پہلے پولیس والے کہہ رہے تھے کے گالیاں دینے والے کا دماغ ٹھکانے آگیا ہے اور اب وہ قومی اداروں کے اھلکاروں کے حوالے سے مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ اور معذرت خواہانہ رویہ ظاہر کررہا ہے لیکن اس کے بعد سامنے آنے والے ویڈیوز سے پتہ چلا کے اصل میں تو پولیس والوں کا دماغ ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے۔

کل صرف ایک شخص پولیس والوں کو گالیاں دے رہا تھا آج ہر پاکستانی یا وہ شخص جو ویڈیو دیکھتا ہے وہ اس سے زیادہ غلیظ گالیاں دیتا ہے لیکن میں ذاتی طور پر اس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ واقعے میں ملوث اہلکار صرف گالیوں کے مستحق نہیں بلکہ اسی رویے کے مستحق ہیں جو اس نوجوان کے ساتھ روارکھاگیا۔ اس کے بعد پولیس والوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اگر نہ پہلے سے بےلگام پولیس کو شہ ملے گی اور وہ اسی طرح غریبوں کو اپنی اناؤں کی بھینٹ چڑھاتے رہینگے۔ اس واقعے کے بعد سنا ہے کہ مذکورہ نوجوان صدمے میں ہے اور اور اس نے کئی بار خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔

تبدیلی سرکار بتائے کے مثالی پولیس کے ہاتھوں اپنی عزت کھونے والے شخص کو اگر کچھ ہوگیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔۔۔۔۔۔ اب بات کرتے ہیں ایک دوسرے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کی۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعت کی قیادت اس وقت ایک ایسے شخص کو سونپی جارہی ہے اور اسے لیڈر بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے جس کو بات کرنے کا ڈھنگ ہے نہ مسائل کو سمجھنے کا سلیقہ۔ گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایمل ولی خان کی غیر ضروری وضاحتوں سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ان کا سافٹ وئیر بھی اپ ڈیٹ کیا جاچکا ہے۔

کل تک پاکستان کے لئے قائد اعظم کی کوششوں اور جناح کے نام سے انکاری، جناح پارک کو کننگھم پارک کہنے والے،افغانستان کو اپنا بڑا گھر اور پختونخواہ کو افغانستان کا حصہ قرار دینے والوں نے جب ٹویٹر پر پاکستانی جھنڈا لگایا۔ تو سب حیران ہوگئے اور ایک پاکستانی ہونے کے انھیں ایسا ہی کرنا چاہئے تھا، صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اس کو بھولا نہیں کہتے۔ لیکن جس انداز میں ایمل ولی خان نے غیر ضروری وضاحتیں پیش کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں پختونخواہ میں 40 کے قریب سیٹیں دینے کا وعدہ ہوا ہے۔

میری معلومات کے مطابق ایمل ولی کو آئندہ صوبائی سیاست میں متحرک کیا جائے گا اور پھر شہر یار آفریدی، علی محمد خان اور مراد سعید کی ڈیوٹی اسکے ذمے لگائی جائیگی۔ پھر لوگوں کو پتہ چلے گا کہ یہ جو مئی والا* میاشت ہے * بہت خطرناک ہے۔ اسی انٹرویو میں ایمل ولی خان نے مراد سعید کے حوالے سے جو زبان استعمال کی وہ بھی قابل مذمت ہے بلکہ اس قسم کے الفاظ کا استعمال ایک پختون ہونے کے ناطے سب پختونوں کے لئے باعث ندامت ہیں۔

اب اپنے کچھ صحافی بھائیوں کی طرف آتا ہوں کہ ان کچھ میزبان اور صحافیوں کے دوران انٹرویو یا دوران پروگرام باڈی لینگویج اور جانبداری کا یہ حال ہے کہ ان کی بھی سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے ضرورت ہے تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ میزبان کسی خاص سیاسی سوچ یا نظریے کے پرچار میں مقرر کا ساتھ ساتھ دے رہا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر جگہ مطلق العنانیت نظر آرہی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ قلم کے مزدور اس پر بات نہیں کرتے، ٹاک شوز میں بات نہیں ہوتی، سماجی رابطوں کے ویب سائٹس خاموش ہیں ۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے حس اور بے ضمیر ہوچکے ہیں۔کیا ہم سب کو سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top