سرکاری ملازمین کے خلاف نفرت نہ پھیلائیں

hhhhh-ffff-222.jpg

جمیل اقبال : تجزیہ کار

سرکاری ملازمین اس ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کی نگاہیں صرف اور صرف بجٹ پر رہتی ہیں اگرچہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتا ہے لیکن اس اضافے کا اعلان ان کی مالی سے زیادہ نفسیاتی تسلی کا باعث بنتا ہے اور انہیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ سرکار اپنے ملازمین کو نہیں بھولے.اگر چہ موجودہ حکومت اور اسکی کنفیوزڈ پالیسی نے تو ملک کا کا ہر سیکٹر تباہ کر رکھا ہے لیکن اس بار تو سرکاری ملازمین کے ساتھ حقیقی معنوں میں سوتیلی ماں جیسا سلوک روارکھاگیا.

اگر چہ خبریں آرہی تھی کہ اس بار تو آئی ایم ایف بھی ملازمین کو ریلیف دینے کہ حق میں ہے کیونکہ جس شرح سے ملک میں مہنگائی بڑھی ہے اس تناسب سے تو ملازمین کی تنخواہوں میں اچھا خاصا اضافہ ہونا چاہئیے تھا لیکن ہمیں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت یاد آرہی ہے جب تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا تھا اور سے پہلے تو شوکت عزیز کی حکومت بھی سرکاری ملازمین کو مناسب اہمیت دیتی تھی. تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا تو ایک طرف لیکن جب سے بجٹ کا اعلان ہوا ہے تب سے ان سرکاری ملازمین کے خلاف ایک منظم طریقے سے نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور چند حلقے اپنی گھٹیا ذہنیت کا پرچار کرکے تواتر کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ سرکاری ملازمین تو گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں۔

ریکارڈ کی درستگی کے لئے چند حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ سرکاری ملازمین کے خلاف بھونکنے والوں کا منہ بند ہوجائے۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں. ایسا لگتا ہے جیسے بجٹ سے قبل ایک طرح سے سرکاری ملازمین کے خلاف باقاعدہ پلاننگ سے نفرت پھیلائی گئی. عرض یہ ہے کہ سرکاری ملازمین میں سے اس وقت پولیس سڑکوں پر ہے ناکے بھی لگ رہے ہیں، ٹریفک پولیس بھی موجود ہے، ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ ہوچکی ہیں، بجلی،سوئی گیس کے بل آرہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ سپلائی جاری ہے اور اگر کہیں ٹرانسفارمر کا مسئلہ ہو تو وہ حل ہوجاتا ہے. اس کا مطلب ہے کہ یہ محکمے کام کر رہے ہیں۔

ڈاک خانہ کھلا ہے، بجٹ تیار کر لیا گیا ہے یعنی فنانس والے بھی کام کرتے ہیں. عدالتیں لگ رہی ہیں یعنی عدالت کا عملہ بھی کام کر رہاہے. فوج بھی چھٹی پر نہیں ہے۔خاکروب صفائی کررہے ہیں یعنی کارپوریشن والے بھی ڈیوٹی پرہیں. پارکس میں پودوں کو پانی بھی دیا جا رہا ہے. اتوار بازار لگ رہے ہیں، منڈی کھلی ہے یعنی ایگریکلچر اور مارکیٹ کا عملہ بھی کام کر رہا ہے۔ ٹرینیں چل رہی ہیں۔ چیف سیکرٹری روزانہ اجلاس کر رہے ہیں یعنی سیکرٹریٹ چل رہا ہے۔

ریڈیو اور ٹیلی وژن کی نشریات بلاتعطل جاری ہیں،بینک کھلے ہیں۔ صرف تعلیمی ادارے بند ہیں اور وہ اس لئے کہ اس سے آپکے بچے براہ راست کو رونا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن اساتذہ کاکام پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ آن لائن کلاسز کی تیاری،انٹرنیٹ کی دستیابی اور اپنے گھروں کو دفاتر بنانا ایک مشکل کام ہے۔ جس سے ان کی فیملی لائف کا حرج ہوتا ہے۔ جامعات میں تحقیق کا کام جاری ہے۔

امتحانات کی تیاری ہورہی ہے۔ اساتذہ کرام الیکشن اور دوسرے مواقع پر ڈیوٹی دیتے ہیں. اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرکاری ملازمین پوری طرح کام کرتے ہیں. تنخواہ میں اضافہ نہیں کرنا تو اس کے لئے کوئی اور جواز ڈھونڈیں. لیکن خدارا سرکاری ملازمین کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ نہ کریں اور اگر وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے. تو ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافے کی تجویز بھی واپس لے لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top