حکومت بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے،یو این وومن

86328555-7659-48e7-92e7-c46eb0255ea2-1.jpg

پشاور:اقوام متحدہ کی ذیلی ادارہ ‘یو این وومن’ اور تنظیم برائے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ‘EVAW/G Alliance’ کے تحت پشاور پریس کلب میں Child Marriage Restrain Bill کی تاخیر کے حوالےسے پریس کانفرنس کی گئی۔

اس سلسلے میں کچھ دن پہلے E-Conference  بھی منعقد کی گئی تھی۔ جس میں زندگی کے مختلف شعبون سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکن، مذہبی علماء اور انسانی حقوق کے میدان میں کام کرنے والی مختلف شخصیات نے شرکت فرمائی۔

Ending Violence Against Women/Girls) EVAW/G Alliance) کے ممبر اداروں کیطرف سے اس پریس کانفرنس میں COVID-19 کے طویل المیعاد اثرات اورمختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی خصوصاً اس عالمی وبا کی پیدا کردہ غیر یقینی صورتحال اور اس کے پیش نظر معاشرہ کے پسماندہ طبقے جس میں خواتین اور بچے شامل ہیں کے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔

مختلف رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں وہ بچیاں جو سکول سےغیرحاضرہیں اُنہیں کم عمری کی شادیوں کےلیے تیار کیا جا رہا ہے جو خواتین کی زندگیاں مزید پیچیدہ اور مشکل بنائے گا۔

خواتین خصوصاً بچیوں کو کاروبار، ملازمت، حقوق کی پاسداری اور ضروریات زندگی کی حصول میں مشکلات آرہی ہیں۔ یہ عا لمی وباء ان مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنی ہے۔ جن کے اثرات طویل اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

صوبے میں سماجی تنظیموں (CSOs)  نے خبردار کیا ہے کہ سکول کی بندش کی وجہ سےبچپن کی شادیوں کا رجحان بڑھ رہاہ ے,اسکےعلاوہ غذا کی قلت اور غیر یقینی معاشی صورتحال اس عالمی وباء یعنی COVID-19  کی وجہ سے زیادہ ہورہاہے۔پاکستان میں کم عمر بچیوں کی شادی میں خاطرخواء اضافہ دیکھا گیا اور خصوصاً خیبر پختونخوا  میں جنسی تشدد،فوری حمل اور بچیوں کی اسکول چھوڑنے کا رجحان دیکھنے کو ملا۔

قمرنسیم، کو-چئیر آف ایواو/جی الائنس پختونخوا  کا کہنا تھا کہ بعض لوگ بچیوں کے کم عمر میں شادی کو اسلام کا لبادہ اوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اسلام ایک بصیرت سے بھرپور مذہب ہے جو دلیل واضح کرتا ہے کہ نکاح کے وقت مرد اور عورت بالغ ہوںاور جسمانی اور ذہنی طور پر بھی پختہ ہو۔

عمران ٹاکر جو کہ چائلڈ رائٹس ایکٹویسٹ ہیں نے واضح کیا کہ اس قسم کی عالمی وباء کا تقاضہ ہے کہ ہنگامی صورتحال پر انتظامی عمل کو بحال کیا جائے اور بھڑتی ہوئی کم عمری میں شادی کو مرحلہ وار کم کیا جائے۔مزید یہ کہ اس وباء کے پیش نظرگھریلو آمدنی میں کمی، گھریلو تشدد کے بھڑتی ہوئی صورتحال اور اسکولوں تک رسائی میں کمی شامل ہے۔

ٖفدا جان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری میں شادی کے مسئلے کو حل کرنے میں نوعمرلڑکیوں کے پروگرام اور محفوظ پناہ گاہوں کا قیام  ضروری ہے۔ جن بچیوں کی عمر 18 سال سے کم ہے ان کو بنیادی تعلیم، نفسیاتی مدد، تولیدی صحت کی رسائی فراہم کردی جائے۔ اس کے ساتھ ثقافتی اور جنسی بنیاد پر علم اور آگاہی کی فراہمی علاج اور تشخیص  ضروری ہے۔

تنظیم برائے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ  (EWAW/G)ممبران نے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے۔

(1):خیبر پختونخوا Child Marriage Restrain Bill-2019 کو بلا تاخیر قانونی شکل دی جائے۔

(2): نو عمرلڑکیوں کی بنیادی ضروریات کے بارے میں آگاہی کے متعلق ترجیحی بنیاد پرکام کیا جائے جس میں ردعمل اور بحالی کی کوششیں شامل ہیں۔

(3): اس عالمی وباء کے دوران اور بعد میں کم عمری میں شادی کی رجحان کو کم کرنے کے لئے عوامی پالیسیوں کی کوششوں کی حمایت کی جائے۔

(4): معاشرتی تحفظ کے سیاسی حکمت عملی بچوں کی کم عمری میں بڑھتی ہوئی شادی کے رجحان کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

(5): نو عمر افراد کے صحت کے سہولیات اور معلومات کی مسلسل فراہمی اور جنسی بنیادوں پر تشدد (GBV) کے سہولیات میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top