اقلیتی برادری:وفاق کے بعد پختونخوا میں بھی بااختیار اقلیتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

ccf39434-078b-4788-bd8c-ca9341a590fb.jpg

اسلام گل آفریدی

وفاقی اقلیت کمیشن کے باقاعدہ منظوری کابینہ نے پانچ مئی کو دیا گیا جبکہ عوامی دباؤ پر کمیشن میں قادیونوں کو نمائندگی نہیں دی گئی۔وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے مطابق سندھ کی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے چیلا رام کیولانی قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ہوں گے جبکہ کمیشن میں ہندو اور مسیحی برادری سے تین تین، سکھ برادری سے دو، کیلاش اور پارسی برادری سے  ایک ممبر شامل کردیا گیا ہے۔

مفتی گلزار نعیمی اور مولانا عبدالخبیر آزاد مسلم ممبر ہوں گے جب کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل بہ لحاظ عہدہ کمیشن کے ممبر ہوں گے اور سیکرٹری مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کمیشن کے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے۔
19 جون 2014 کے پارلیمانی فیصلے کے رو سے ملک میں آباد اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لئے وفاق اور چاروں صوبوں میں کمیشن کے قیام عمل لایا جائیگا۔ اب چونکہ وفاق کے سطح پر کمیشن کی باقاعدہ منظوری وفاقی کابینہ دی چکی ہیں تاہم اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی ہے جس کے وجہ سے یہ معاملہ نہ صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ مستقبل میں کمیشن کے اختیارات پر اقلیتی برادر کے رہنماء اعترضات بھی اُٹھا رہے ہیں۔

 

خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع کے سکھ برادری کے رہنماء اور سماجی کارکن بابا جی گورپال سنگھ نے وفاقی اقلیتی کمیشن کے قیام کو حوش آئند قراردیا تاہم نے اُنہوں نے اس بات پر روز دیا کہ جلد صوبوں کے سطح پر بھی کمیشن قیام عمل مکمل ہونا چاہئے تاکہ ملک میں اقلیتی برادری کو درپیش مسائل کے جلد از جلد حل ممکن ہوسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ وفاق کے سطح پر قائم کمیشن میں بہائی برادری کو نمائندگی نہیں دی گئی جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

کاشف منیر اقلیتی برادری کے حقوق کے لئے سرگرم رکن ہے اور اُن کو مستقبل میں اقلیتی برادری کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے کافی اُمید یں وابستہ ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ مزکورہ کمیشن کو فیصلہ سازی میں بااختیار ہونا چاہئے تب ممکن ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوجائینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں اس سے پہلے مسائل کے حل کے لئے مختلف کمیشنوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے۔

مالا کماری کا تعلق قبائلی ضلع کرم ہے، علاقے میں شدید مسائل کے باجود بھی پچھلے کئی سالوں نے علاقے میں رہائش پزیر اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لئے کام کررہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وفاقی اقلیتی  کمیشن موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اس کے ثمرات تب سامنے آئینگے جس میں مختلف اقلیتی برادری کے اصل نمائندے کمیشن کا حصہ بنایا جائے نہ کہ سیاسی یا دوسرے وابستگی کے بنیاد پر اُنہوں نے کہا کہ تمام وفاقی کمیشن میں صرف ایک ہی خاتون کو شامل کیا گیا جوکہ آدھی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کافی نہیں جبکہ مستقبل میں صوبوں کے سطح پر قائم ہونے والے کمیشن میں بھی اس بات کاخیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

ملالی اختری صوبہ خیبر پختونخوا میں بہائی برادری کی نمائندگی کررہی جبکہ ملک بھر میں اقلیتی برادری کے حقوق کے لئے کوششیں کرتی رہتی ہے۔ اُنہوں نے موجودہ وفاقی اقلیتی کمیشن میں بہائی برادری کو نمائندگی نہ دینے پرحیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے اُن کو کچھ معلوم تاہم اُن کہنا ہے پچھلے پندرہ سالوں سے اقلیتوں کے حقوق کے لئے جتنے بھی کمیشنز حکومت نے بنائے ہیں اُن باقاعدگی سے بہائی برادری کو نمائندگی کا حق دیا گیا تھا۔ اُن کے بقول پاکستان کے 1973ء کے تحت ملک میں دوسرے اقلیتوں کی طرح بہائی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ وفاقی وزات مذہبی امور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرکے باقاعدہ طورہ وفاقی کمیشن میں بہائی برادری کو نمائندگی دئینگے جبکہ آنے والے وقت میں جب اس حوالے سے صوبوں میں ممبران کے چناؤ ہونگے تواس میں دوسرے اقلیتوں کے برابر حصہ ملنا چاہیے۔

پاکستان میں آخری چند سالوں میں اقلیتوں کے مسائل میں اضافہ دکھا گیا جس میں زبردستی مذہبی کی تبدیلی کے ساتھ کم عمری میں جبری شادی، عبادگاہوں کے تذن وآرئش اور مذہبی رسومات کے لئے کم فنڈ، اقلیتی برادری کے فلاح وبہود کے لئے نامناسب منصوبہ بندی، بعض صوبوں کے بڑے شہروں میں شمشان گھاٹ کے عدم موجودگی، تعلیمی اداروں کے کمی، نوکریوں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں کم مختص کوٹہ، وفاق اور صوبوں کے سطح پر مختص فنڈ غلط استعمال، قانون سازی اور دیگر امور نمٹانے کے لئے اقلیتی رہنماؤ ں کا انتخاب سیاسی بنیادوں پرایسے مسائل ہے جو کہ مستقبل میں وفاقی اور صوبائی اقلیتی کمیشن کے لئے غور طلب مسائل ہیں۔

کاشف منیر کے مطابق ملک بھر میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانو ں کو بھی کمیشن میں حصہ دینا چاہئے جو کہ اپنے برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور اُن کو آئین اور قانون کے دائر ے میں رہ کر اپنے حقوق کے حصول کے بارے میں استطاعت بھی رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے نوجوانوں کو جس شعبے میں بھی موقعہ دیا گیا تو اُس نے ملک وقوم کا نام روشن کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کے لئے مواقع بہت ہی کم ہے۔

2017 میں چھٹی مردم شماری کے مطابق میں ملک کے مجموعی آبادی 20کروڑ 76لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جس میں 96.47 فیصد مسلمان اور 3.53مذہبی اقلیتیں ہیں۔ سن 1998کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی 96.28فیصد جبکہ مذہبی اقلیتیں 3.73فیصد تھے۔ اس اسطرح دو مردم شماری میں 0.19 فیصد کمی آئی ہے۔

چھٹی مردم شماری اور آخری مردم شماری کے پہلے مرحلے میں فام سے سکھ مذہب کو نکلاگیا تھا جبکہ بعد سکھ رہنماؤں نے اعلی عدالتوں کا روح کرکیا اور اسطرح عدالت نے ادارہ شماریات کو مردم شماری کے فام میں سکھ مذہب کے شامل کرنے کا حکم جاری کیا۔ تاہم پہلے مرحلے میں جن علاقوں کو شامل گیا تھا وہاں پر سکھ برادری کے تعداد زیادہ تھی جوکہ دیگر مذہب میں شمار کیاگیا جس کے وجہ سکھ برادری کے تعداد کو کم ظاہر کرنے پر اس برادری کے رہنماؤں کے کافی شکایت موجود ہے۔
آخری مردم شماری کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی اقلیتوں میں ہندوآبادی میں سب زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر عیسائی،احمدی اور شیڈیول کاسٹ ہیں۔دیگر اقلیتوں میں سکھ، بہائی، زرتش، پارسی،کیلاش اور یہودی وغیر ہ کو دیگر کے ضمن میں لکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top