جمعیت علمائے اسلام کا کردار

99601402-594f-42a2-a7f6-633a8f9117ac.jpg

ماریہ زیب اعوان :تجزیہ کار

بات چلی ہے حق پرستی اور اصول پرستی کی تو کچھ لوگ بضد ہے کہ ہم گیٹ نمبر 4 سے اْٹھنے والے طوفانِ بدتمیزی کو اصولوں کا دیوتا تسلیم کر لیں۔ویسے ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ اس ملک کا صدر کون بنتا ہے اور وزیراعظم کیونکہ یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا۔ ہم نے یہاں معین صاحب ، شوکت عزیز صاحب اور جونیجو صاحب کی حکمرانی بھی دیکھی ہے۔معین صاحب بیروت میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ان  کے نام قرعہ حکمرانی نکل آتا ہے۔جب صاحب پاکستان تشریف لاتے ہیں تو فرمائش کرتے ہیں کہ والد صاحب کی قبر پر دعا کرنی ہے۔اب انتظامیہ کے لیے عجیب مسئلہ درپیش ہوتا ہے معین صاحب کی والد کی قبر کا کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔مسئلہ شیخ رشید صاحب کے سامنے پیش ہوتا ہے اور شیخ صاحب مسئلے کا یہ حل نکالتے ہیں کہ کسی پرانےقبر پر معین صاحب کےوالد کا تحتہ لگا کر قومی بحران کا حل نکال لیتے ہیں۔

جونیجو صاحب خوش قسمت ہوتےہیں میں وثوق سے کہتی ہوں کہ جونیجو صاحب عمران خان اور نواز شریف سے کہیں زیادہ مضبوط وزیراعظم تھے اور اسکی وجہ ولی خان جیسے قدآور شخصیت کا ہونا تھا کیونکہ انکا سیاسی دباؤ ضیاءالحق پر اتنا شدید تھا کہ کبھی کبھی جونیجو صاحب ضیاء کے مقابلے میں علم بغاوت بھی بلند کر دیتےتھے۔بات ہو رہی تھی حق اور اصولوں کی سیاست کی تو بھٹو صاحب طیش میں آکر بلوچستان میں قوم پرستوں کی حکومت گرا دیتے ہیں ولی خان اپوزیشن کو لیڈ کر رہے ہوتے ہیں اور پختوانحوا میں مفتی محمود صاحب جمعیت علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کے وزیر اعلی ہوتے ہیں۔ ولی خان مفتی محمود سے رائےطلب کرتے ہیں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ولی خان کیا میں اتنا کم ظرف ہوں کہ اب بھی میں اقتدار میں رہوں اور فورا وزیر اعلیٰ سیٹ سے استعفیٰ دیتے ہیں۔

مولانا امیر محمد المعروف بجلی گھر مولانا ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مفتی محمود صاحب کومیری آواز پسند تھی مجھے کہا کہ وزیر اعلی ہاؤس آ جاؤ اور مجھے نعت سناؤ اور کھانا ایک ساتھ کھائیں گے میں خوش ہوا کہ وزیر اعلیٰ کا مہمان ہوں آج تو مزے ہیں ۔کھانے کا وقت آیا تو گھر سے ابلے دال کی دو پلیٹیں آئی ابلا دال حلق میں پھنس رہا تھا مگر احترام کی وجہ سے کھانا پڑا، چند دن بعد پھر مجھے وزیر اعلیٰ صاحب نےکھانے پے بلایا میں نے کہا مفتی صاحب ابلے دال مجھ سے نہیں کھایا جاتا تو فرمایا وللہ اس سے بڑھ کر میری استطاعت نہیں۔یہ ہے مفتی محمود صاحب کا کردار اور دوسرے طرف ہمارے کپتان صاحب کی والد صاحب کاکردار ہے جو کہ رشوت میں نوکری سے نکالے جاتے ہیں۔بات کرتے ہیں مولانا فضل الرحمن کی جسکی ساری زندگی قران اور قالا قالا رسول اللہ کی خشبووں سے معطر یے اپ مولانا کے سیاست اور طرز سیاست سے تو اختلاف کر سکتے ہیں مگر مولانا کے کردار کا مقابلہ کم از کم کپتان تو نہیں کر سکتا۔

یہ مولانا کی قائدانہ صلاحیت ہی ہے کہ مدرسہ کے طالب علم کو بندوق سے دور رکھا ہوا ہے اور ان کو پارلیمانی سیاست کا راستہ دکھارہے ہیں۔کیا ملک کے وزیر اعظم کو زیب دیتا ہے کہ وہ الزامات اور بہتان تراشی کرے ۔کیوں نہیں بناتے کیس مولانا کےاوپر اگر مولانا نے کوئی غیرقانونی کام کئے ہیں تو بناو نہ کیس ان پر مگر یہ کیا غلاظت ہے کہ داڑھی اور پگڑی کا مذاق اڑایاجائے۔ہم تو شیح الہند،باچا خان اور جی ایم سید سکول آف تھاٹ والے ہیں ہمارے سیاست کی کتابوں میں اقتدار کی کوئی اہمیت ہی نہیں اور اکثر ہم جیسے باغی اہل قلم کو زیادہ تکالیف ان حکومتوں میں ملتی ہے جو کہ نظریاتی طور پر ہم سے قریب تر ہوتی ہے مگر یہ جو روش چل پڑی ہے پاکستان میں کہ سیاستدانوں کی کردار کشی کی جائے یہ اس ملک کی بنیادوں کھوکھلا کر رہی ہے اور اس خطرناک روش کےخلاف ہر صاحب قلم کو جہاد کرنا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top