نجی تعلیمی اداروں کا حرص و ہوس زر

hhhhh-ffff-222.jpg

جمیل اقبال : سینئر صحافی و تجزیہ کار

آج میرا ارادہ تھا کے کروبا وباء کے اس موقع پر نا عا قبت اندیش عناصر کی ذخیرہ اندوزی اور نا جائز منافع خوری پر اپنے خیالات، تاثرات اور تحفظات قلمبند کروں گا،لیکن دوستوں نے میری توجہ تعلیمی مافیا کی طرف مبذول کرائی جو تعلیمی اداروں کی بندش اور عالمی وبا کے تیز تر پھیلاؤ کے باوجود بے چا رے طالبعلموں سے آن لائن پڑھائی کے بدلے بھاری فیس بٹورنے کے چکر میں سرگردان ہے۔ چنانچہ معاملے کی اہمیت کے پیش نظر میں نے عین لمحے اپنا موضوع تبدیل کیا۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر ان شا اللہ آئندہ کے کاُلم میں لکھنے کی کوشش کروںگا۔

پاکستان تعلیم کے مد میں ایک پسماندہ ملک ہے۔ غربت اور مالی وسائل کے فقدان کے سبب اکثروبیشتر بچوں اور بچیوں کا تعلیمی سلسلہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ہمارے ملک کا ایک گھمبیر مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے میعاری تعلیم دینے سے قاصر ہیں جبکہ نجی تعلیمی اداروں نے ناقابل برداشت حد تک بھاری فیس مقرر کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ حتیٰ کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور عدالت عظمٰی کو بھی کئ بار مداخلت کرنا پڑا تاکہ فیسوں کو مناسب سطح تک کم کیا جاسکے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بیوروکریسی بھی بوجوہ تعلیمی مافیا کے سامنے بے بس ہے۔ لہذا نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں کمی نہیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کو رونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر 31 مئی 2020 تک بند ہیں۔اس صورتحال میں بعض نجی تعلیمی اداروں نے مال بٹورنے کی خاطر گھروں میں بیٹھے طالب علموں کے لئے آن لائن تدریس کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس بہانے طالبعلموں سے پورا فیس وصول کرنے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔طالبعلموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ فیس نہ دینے کی صورت میں ان کا گریڈ کم کیا جائے گا اور اگلے سال انکو ڈبل فیس دینی ہوگی۔

مستقبل کے معماروں کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کا یہ سلوک کسی طور بھی درست نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ تعطیل کے دوران اور ہاسٹلوں کے بندش کے وجہ سے طالبعلموں کی کثیر تعداد آبائی دیہی علاقوں میں چلی گئ ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت ندارد یاپھر کمزور سگنلز کی وجہ سے وہ کثیر تعداد اس آن لائن تدریس کی سہولت سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ٹیچر کی کی کلاس میں موجودگی میں طالبعلم جو کچھ سیکھ سکتا ہے وہ آن لائن تدریس سے ممکن نہیں۔ یہں وجہ ہے کہ ان لائن تدریس اور ریگولر تدریس کی فیسوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے لیکن بعض تعلیمی اداروں نے اودھم مچا رکھی ہے اور طالبعلموں سے ان لائن تدریس کے عوض انتھائی بھاری فیسوں کا تقاضا کررہے ہیں۔

دوسری طرف ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ یہ ادارے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر تعلیمی اداروں کے بندش کے سبب مالی پیکیج کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں جو کسی طور سے جائز نہیں۔ لیکن یہاں پر وزیراعظم پاکستان کی توجہ نجی سکولوں کے اساتذہ کے تنخواہ کی طرف دلانا چاہوں گا کہ مالی لحاظ سے مستحکم سکول مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی جیب سے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرے اور جو مالی لحاظ سے کمزور سکول ہیں ان اساتذہ کو احساس پیکیج دیا جائے یا ان کی تنخواہ کے لیے کسی دوسرے پیکیج کا اجرا کیا جائے۔

لاک ڈاؤن سے معیشت کا پہیہ رک گیا ہے۔ صاحب ثروت لوگ دل کھول کر غریبوں کی مدد کر رہے ہیں اور خیرات و صدقات دے رہے ہیں۔ ایسے میں بعض نجی تعلیمی اداروں کا حرص و ہوس زر قابل مذمت ہے ۔ ان اداروں کی مالی حیثیت بہت مضبوط ہے اور تعلیمی اداروں کی کچھ مہینوں کی بندش سے ان اداروں کی مالی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔کاش کہ یہ ادارے طالبعلموں سے آن لائن تدریس کے عوض کوئی فیس وصول نہ کرتے اور دوسرے خیراتی اداروں سے ملکر وباء کے اس موقع پر غریبوں کی داد رسی کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top