اسلامیہ کالج پشاور،تباہی کے دہانے پر

c4ca2f6f-3801-415b-a5dc-3e52c7526b4d.jpg

جمیل اقبال :  سینئر صحافی

اسلامیہ کالج پشاور کا شمار نہ صرف خیبر پختو نخوا کی عظیم درسگاہوں میں ہوتا ہے۔بلکہ یہ پاکستان کے ان چندتعلیمی اداروں میں شمار ھوتا ہےجن سے فارغ ہونیوالے طلباء دنیا بھر میں ملک اور قوم کا نام روشن کر رہے ھیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہی ادارے کے بطن سے خیبر پختو نخوا کی بہت سی جامعات نے بھی جنم لیا جبکہ یہاں کے سابق طلباء گورنر،وزیر اعلیٰ، صدرمملکت اور چیف جسٹس کے عہدوں تک پہنچے ھیں۔

بدقسمتی سے آج کل یہ ادارہ اخبارات اور ٹی وی خبروں میں زیر بحث ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا میں زیر بحث رہنے کی وجہ کرپشن، اقرباپروری اور قائم مقام وائس چانسلر کے وہ اقدامات ھیں جنھوں نے ادارے کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیاھے۔ میری گورنرخیبر پختو نخوا شاہ فرمان اور سینئر ایلو مینائےایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ خدارا آگے آئیں اوراسلامیہ کالج پشاور کو مزید تباہی سے بچائیں۔یوں تو داستان بہت طویل ہے اور واقعات کی ایک لمبی فہرست میرے سامنے ہے۔ لیکن جن فیصلوں کے بارے میں مجھے دوسو فیصد یقین اور دستاویزات میرے پاس موجود ہیں ان کا ذکر کرتا ہوں۔

پروفیسر ڈاکٹر توقیر عالم ایک ماہر تعلیم اور باصلاحیت انسان ہیں۔جنہیں ادارے کے سنڈیکیٹ کے ذریعے رجسٹرار تعینات کیا گیا لیکن جب انہوں نے قائم مقام وائس چانسلر کے حکم پر غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا تو ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملکر عبوری وائس چانسلر نے انہیں عہدے سے ہٹادیا۔ پشاور ھائی کورٹ نے انہیں رجسٹرار کے عہدے پر کام جاری رکھنے کا حکم دیا لیکن قائم مقام وی سی نے عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے فخر عالم نوشاد کو پہلے شعبہ پاک سٹڈیز سے گولڈ مڈل دلوایا جبکہ اس دوران وہ علیل تھے اور انہوں نے کلاسز نہیں لیں اور امتحان تک نہیں دیا اسکے بعد اسی بیٹے کو شعبہ مطالعہ پاکستان میں لیکچرار تعینات کروادیا جبکہ ایک نجی ہسپتال اسکو طبی بنیادوں پر ان فٹ قرار دے چکاہے اسی بیٹے کو وزٹنگ سے کنٹریکٹ کی حیثیت دینے کے لئے کمیٹی کو مجبور کیا لیکن جب ڈینز صاحبان نے انکار کیا تو ان کے خلاف گورنر کو خط لکھ دیا۔

اس حوالے سے اسلامیہ کالج پشاور کے سینئر ڈین ڈاکٹر نثار محمد نے گورنر اور سینئر ایلومینائے کے نام آڈیو پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ اسلامیہ کالج کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہوئے ایک لان کو اپنے سب سے چھوٹے بیٹے قائد نوشاد کے نام سے منسوب کر دیاہے جو اس ادارے کے ساتھ زیادتی ہے۔اسکے علاوہ حال ہی میں ڈاکٹر نوشاد نے کنٹریکٹ ملازمین کا سٹیٹس تبدیل کرکے انہیں پہلے ڈیلی ویجز کا سٹیٹس دیا اور بعد میں فارغ کردیا جبکہ اپنے من پسند آٹھ افراد کو ڈیلی ویجز سے کنٹریکٹ میں لے آیا انہیں پہلے ورکس ڈیپارٹمنٹ،پھر پی اینڈ ڈی اور اب اکاؤنٹس سیکشن میں کپھایا۔جن میں سے بعض لوگوں سے مبینہ طور پر تحفے تحائف اور نقد پیسے لئے گئے اسکے علاوہ وہ ملازمین جو بجٹ میں درج اسا میوں پر بھرتی ہوئے،ان کی تنخواہیں بجٹ میں موجودگی کی وجہ سے بنتی ہیں لیکن ملازمین فارغ ہوچکے اب معلوم نہیں وہ بجٹ کے پیسے کہاں جاتے ہیں؟

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ شعبہ پاکستان سٹڈیز کا ایک لیکچرر حسین محمد گذشتہ چھ سال سے جرمنی میں ہے لیکن وی سی کا قریبی دوست ہونے کی وجہ سے وہ اب تک گریجویٹس سٹڈیز کمیٹی کا ممبر ہے اور ایم فل و پی ایچ ڈی کے تمام معاملات کا ذمہ دار ہے جو غیر قانونی ہے۔ ڈاکٹر نوشاد اس وقت ایل پی آر پر ہیں یعنی وہ نو اپریل دو ہزار اکیس کو ریٹائر ہو رہا ہے عام طور پر یہ ملازمت کے آخری سال ملازمین گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر نوشاد ادارے کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

گورنر کو چاہیے کہ اس شخص کے خلاف ایکشن لے اور اس تاریخی ادارے کو مزید تباہی سے بچائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر نوشاد کے خلاف اس وقت مختلف سطح پر کئی انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں سے ایک ضیا احمد نامی سابق طالبعلم جنہوں نے جامعہ پشاور سے پاک سٹڈی میں ایم ایس سی کیا ہے اور آجکل پی ٹی وی اسلام آباد میں ملازم ہے کا تحقیقی مقالہ چوری کرکے اسے ارٹیکل کی شکل دیکر اپنے نام سے شائع کرنا اور پروموشن لینا ہے۔واضح رہے کہ اسی نوعیت کے ایک جرم میں جامعہ پشاور کے ایک سابق وائس چانسلر کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونے پڑے تھے لیکن یہاں ڈاکٹر نوشاد کیلئے قانون خاموش ہے۔

میری گورنر،وزیراعلیٰ اور سینیر ایلومینائے ایسوسی ایشن سے درخواست ہے کہ ادارے کو مذید تباہی سے بچانے کے لئے اس شخص کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رجسٹرار سمیت تمام امور پہلے کی بنیاد پر واپس لائے جائیں۔ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور بعد میں ہم سب تاریخی اسلامیہ کالج پشاور کی تباہی کا ماتم کریں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top