کورونا وائرس واقعی ایک جان لیوا مرض ہے یا ایک عذاب؟

c999dc06-49d6-45be-8742-563a91172cda-e1584698863828.jpg
اسلام گل آفریدی
پشاور: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اب تک کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سینکڑوں میں ہیں لیکن اس مرض کے ماہرین لاکھوں میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بھی دن بدن واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے نسبت شاید لوگوں کے پاس زیادہ وقت ہونے کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر حالات حاضرہ کے حوالے سے سب سے زیادہ معلومات، مباحثے اور تبصرے آپ کو یہا ں پر باآسانی اور معمولی سے انٹرنیٹ پیکچ کے بدلے مل سکتا ہے۔ اگر ایک طرف کورونا نے دنیا کے بڑے حصے کو شدید طریقے سے اپنے لپیٹ میں لے چکا ہے تو دوسرے طرف پاکستانی عوام اس وبائی مرض کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔
ساٹھ سالہ آبادگل پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر واقع ایک پرائیوٹ ہاسٹل میں گارڈ ہے۔ یہ کرونا کو ایک وبائی مرض کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اس قسم کے صورتحال کا سامنا کیا ہے لیکن تعلیمی اداروں کی بندش اور لوگوں کے نقل وحرکت محدود کرنے کے حوالے سے ضرور پریشان ہے۔کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدمات کے بارے میں اُن کو ریڈیو اور ٹی وی سے معلومات حاصل ہوئی ہے اور اس وجہ سے اُنہوں نے منہ کو مساک سے چھپایا ہے۔
کرونا کے حوالے سے نہ صر ف عام لوگ بلکہ صحافی بھی بغیر تصدیق کے لوگوں کو غلط معلومات فراہم کررہے ہیں جس کی وجہ سے لوگو ں میں پہلے سے موجود پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔
 پچیس سالہ عبدالقادر بورڈ بازار میں سبزی فروش ہے اور اُن کے نظر میں کرونا انسانی اعمال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا ایک صورت ہے۔ اُنہو ں نے بغیر کسی  احتیاط کے اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھا ہوا ہے۔
عطا ء اللہ "حاجی کیمپ اڈے” کا رہائشی ہے اور کالج کا طالبعلم ہے۔ اُ ن کو معلوم ہے کہ کرونا ایک خطرناک وائرس  ہے جو باآسانی کے ساتھ ایک بندے  سے دوسرے بندے  کو منتقل ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ایک بڑے ہجوم میں لوگوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہے ۔ بغیر مساک کے پوچھنے پر اُنہوں نے بتایا کہ والد  نے بتایا کہ گھر سے زیادہ نہ نکلیں اور ہر گھنٹہ بعد صابن یا جراثیم کش دوائی سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔
بعض لوگ  حکومتی اقدامات سے بھی نالاں دکھائی دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگوں تک صحیح اور بروقت معلومات پہنچانے میں حکومت کو ناکامی سامنا کرنا پڑ ریا ہے جبکہ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی سامان جن میں مساک اور سینٹئزر وغیرہ شامل ہیں کی قیمتیں نہ صر ف کئی گنا بڑھ گئے ہیں بلکہ مارکیٹ میں ناپید بھی ہے جس کے لئے اب تک حکومت نے کو ئی عملی اقدام نہیں اُٹھایا ہے۔
ابراہیم خان پشاورایک جنرل سٹور کے مالک ہے اور اُن کامشورہ ہے کہ تمام انسانوں کو اس بات پر سوچنا چاہئے کہ وہ دوسرے انسانون کے بھلائی کیا کر رہے ہیں۔
محکمہ صحت اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجود ہ وقت میں کرونا سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ روکنے کے لئے سب اہم بات سماجی رابطوں یعنی  میل جول کو کم کرنا انتہائی اہم ہے۔
 کرونا وائرس کے حوالے لوگوں تک مین سٹریم میڈیا کے ذریعے معلومات پہنچے میں صوبائی وزیر صحت اور مشیر برائے اطلاعات کے درمیان بھی ہم آہنگی کے کمی دکھا ئی دے رہا ہے جس کے وجہ ایک نہیں کئی بار غلط معلومات لوگوں تک پہنچائی گئی۔
آخری اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں ٹوٹل 451 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سب زیادہ صوبہ سندھ میں 238،پنجاب 80،پختونخوا 23،بلوچستان 81،گلگت بلتستان 21،آزاد کشمیر 1 اور اسلام آباد میں 7 بتائے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top