حکومت بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے مؤثر قانون سازی کریں،زینب قیصر خان

DSC_7476-1-e1579002775764.jpg

آصف خان

پشاور:پشاور یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن (پیوٹا) اور ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک جامعہ پشاور کے زیر اہتمام یو این وومن پاکستان کے تعاون سے ترتیب شدہ مشاورتی مذاکرہ منعقد کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کو روکنے کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے "چائلد میرج ریسٹرین بل” پر تفصیلی بحث کی کئی مذاکرے کا مقصد مذکورہ بل پر ماہرین تعلیم کی رائے اور مؤقف حاصل کرنا تھا۔

جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک کے سربراہ ڈاکٹر شکیل احمد ،شعبہ کریمنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین اور یو این وومن خیبر پختونخوا چیپٹر کی ہیڈ زینب قیصر خان مشاورتی مذاکرے کے مہمان خصوصی تھے اس کے علاوہ پیوٹا کے نائب صدر (خواتین)پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ، شعبہ فلفسہ،اسلامیات،سوشل ورک،سائیکالوجی،سوشیالوجی،انتھرپالوجی،کالج آف ہوم اکنامس،لاء کالج کے اساتذہ کرام اور کثیر تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

شعبہ سوشل ورک کے اسٹنٹ پروفیسر اور پروگرام کے آرگنائزر ڈاکٹر محمد ابرار نے مذاکرے کا آغاز کیا اور شرکاء کو پروگرام کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔انہوں اپنی پریزنٹیشن کے دوران کہا کہ پاکستان ہیلتھ اینڈ ڈیموکرافک سروے 18-2017 کے مطابق پاکستان کی 50 فیصد خواتین مردوں کے 34 فیصد کے مقابلے میں تعلیم حاصل نہیں کرپاتی،سروے کے اعداد وشمار کے مطابق 22.3 فیصد خواتین بچپن کی شادیوں کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپاتی۔

جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل کے سربراہ ڈاکٹر شکیل احمد نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آئین پاکستان جنس کی تفریق کو رد کرتا ہے اور تمام مردوں اور عورتوں کے حقوق کو بلا تفریق یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے-

شعبہ کریمنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر بشارت حسین نے کہا کہ پاکستان میں لڑکوں کے لئے شادی کی کم از کم عمر 18 سال جبکہ لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سال ہے سوائے صوبہ سندھ کے جہاں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال مقرر کیا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ نے خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لڑکیوں کی افزائش اور ترقی کیلئے مطلوبہ وسائل مل جل کر فراہم کرنے ہونگے تاکہ وہ تعلیم ،تربیت،فنی ترقی اور خود اعتمادی سے متعلقہ مہارتیں باآسانی حاصل کرسکیں اور ایک بہتر زندگی گزارسکیں۔

یو این وومن خیبر پختونخوا چیپٹر کی ہیڈ زینب قیصر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے ایسے مربوط اور دورس اقدامات اٹھائے جائیں جس سے بچے اور بچیاں بلا تفریق تشدد سے پاک معاشرے میں پروان چڑھ سکیں اور تمام مواقع سے یکساں مستفید ہوسکیں۔

مذاکرے میں بچپن کی شادیوں کی معاشرتی پہلووں،صنفی تشدد ،چائلد میرج ریسٹرین بل کے ڈرافٹ کے اہم نقات اور درپیش مسئلے کے حل میں اکیڈیمیا کی کردار پر بات چیت کی گئی۔ماہرین تعلیم نے مذکورہ بل کے حوالے سے اپنی اپنی رائے اور نقطہ نظر پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top