جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے ، مسائل کا حل امن ہے

53327573_10216764433196652_7066905082503102464_n.jpg

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران ایک طرف اگر دونوں ریاستوں کی حکومتیں  اور نشریاتی ادارے (میڈیا) کے اوپر کی جانیوالی بحثوں کے دوران تجزیہ نگاران اور سیاسی لوگ  جنگی فضا کو پروان چڑھانے اور ایک دوسرے کے خلاف موثر پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف دونوں ریاستوں کے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ سرحد  کے  دونوں اطراف جاری جنگی جنونیت کو غیر انسانی اور آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک تباہی کی علامت سمجھتے ہیں۔

اسی تناظر میں "دی پشاور پوسٹ”  نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف عام لوگ اس کشیدگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کیا رائے رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں رہائش پزیر ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی پریزیڈنٹ عصمت شاہ جہان سے جب پاکستان اور ہند وستان کے درمیان حالیہ جنگی تناو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جنگ سے صرف ایک چیز حاصل ہوتی ہے اور وہ ہے تباہی اور کچھ نہیں۔انہوں نے کہا  کہ ہم پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری جنگی جنونیت اور تناو، خاص طور پردونوں ممالک کے اندر جاری رائٹ ونگ اور کارپوریٹ میڈیا کی ”جنگ بھڑکاؤ” پروپیگنڈہ کو رد کرتے ہیں، اور دونوں ریاستوں کی طرف سے کشمیری عوام پر جاری جبراور اُنکے ز خموں پر سیاست چمکانے اور دفاعی فائدے اُٹھانے کو غیر انسانی اور مجرمانہ عمل سمجھتے ہیں۔

عصمت شاہ جہان نے کہا ہم پاکستان اور ہندوستان کی ریاستوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جامع مذاکرات کے ذریعے دہائیوں سے لٹکا ہوا کشمیر کا مسلہ حقِ خودارادیت کے اصول کے تحت حل کریں اور خطے میں جنگ کے خطرے کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بازی اورمذہبی دہشت گردی پر مبنی خارجہ پالیسی پاکستان کے لئے ہر لحاظ سے تباہی اور غربت کے علاوہ کچھ نہیں لائی۔ اِن پالیسیوں کا معاشی اور سماجی خمیازہ غریب عوام کو جھیلنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر محکوم قوموں اور محنت کش طبقے کے نوجوانوں، عورتوں اور بچوں کو اس پالیسی نے متاثر کیا ہے۔

عصمت شاہ جہان نے کہا پاکستان کی طرف سے ہندوستانی پائلٹ کی واپسی کا اعلان خوش آئند بات  ہے.انہوں نے کہا کہ ہم فوری جنگ بندی، ہمسایہ ممالک سے دوستانہ سفارتی و تجارتی تعلقات، اور پاکستان کے اندر مذہبی انتہا پسندوں کی ریاستی پشت پناہی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں.

پشاور میں رہائش پزیر نوجوان صحافی اور شاعر افسر الملک افغان نے جاری کشیدگی کے حوالے سے بتایا کہ دوںوں ریاستوں کو جنگی اور نفرتوں پر مبنی فضا کو ختم کرنے چاہیئے اور عام لوگوں کے فلاح وبہود  کے منصوبوں پر دھیان ہوگا تاکہ لوگ معاشی طور پر خوشحال ہوں اور امن وسکوں سے زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا تعلق تیسری دُنیا سے جہاں پہلے ہی سے لوگ غربت اور جہالت کی چکی میں پھس رہے ہیں اب اگر خدانخواستہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جنگ جھڑگئی تو دوںوں ممالک کو شدید نقصان اور انسانیت کا خاتمہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور یہ جنگ پھر صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ  آہستہ آہستہ پوری دُنیا میں پھیل جائے گا اور تیسری جنگ عظیم کا شکل اختیار کرلے گا۔

افسر افغان نے  دونوں ممالک کے حکمرانوں پر زوز دیتے ہوئے کہا کہ یہ اکیسویں صدی ہے اور یہ امن کی صدی ہے اس میں جنگوں کی کوئی کنجائش نہیں ہے انہوں نے دوسرے  پڑوسئ ممالک چائنہ،ایران اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں امن کی فضا پروان چڑھایا جاسکے اور لوگ خوشی سے رہ سکیں۔

دوسری طرف سرحد کے اُس پار انڈیا کے مشہور اداکار اکشے کمار نے رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام کے دوران کہا ہے کہ کچھ دنوں سے جاری کشیدگی دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ جنگوں سے نفرتیں بڑھتی ہے اور ترقی و خوشحالی کا راستہ بند ہوجاتا ہے انہوں نے کہ دونوں ممالک کے حکومتوں کو چاہئے کہ امن کی فضا کو بحال کریں اور نفرتوں کے بیج بونا بند کریں تاکہ لوگ شانتی سے جی سکیں۔

اسی طرح سابق کرکٹر اور  انڈین پنجاب کابینہ کے کلچر منسٹر نوجوت سنکھ سدھو نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغاموں میں کہا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ تباہی اور بربادی کا سبب بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپل ٹو پیپل رابطے ہونے چاہیں اور جنگی اقتصاد کا خاتمہ ہوجانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جنگ سے ہمیشہ عام لوگ متاثر ہوتے ہیں،جنگ ترقی اور خوشحالی کا راستہ روک لیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top