اے این پی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے، اسفندیار ولی خان

Asfandyar-Wali-Khan-NP-e1570815748250.jpg
پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے اور صوبائی تنظیمیں طریقہ کار وضع کریں کہ کس طرح ہم جے یو آئی (ف) سے تعاون کرسکتے ہیں،مولانا کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچ جائیگا تو میں بذات خود اُس میں شرکت کرونگا،وزیراعلیٰ نے سیاسی کارکنان کے ساتھ کچھ کیا تو پھر اے این پی سلیکٹڈ وزیراعلیٰ سے حساب لے گی۔
باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے اور طریقہ کار وضع کررہے ہیں کہ کس حد تک مولانا کے ساتھ تعاون کیا جائے،یہ فیصلہ ہوچکا کہ میں مولانا کے لانگ مارچ میں شرکت کرونگا اور پارٹی کارکنان سے مجھے اُمید ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ ہونگے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر بھی واضح کیا کہ اگر 27 اکتوبر کو کسی بھی سیاسی ورکر پر تشدد کیا گیا یا اُن کا راستہ روکا گیا تو اُس کا جواب صوبائی حکومت سے اے این پی لے گی اور اسکے بعد میں بھی اپنے کارکنان کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دونگا۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اتنا سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک وزیراعلیٰ رہینگے،پھر اُس کو اپنے آبائی گاؤں مٹہ سوات میں بھی پناہ نہیں ملے گی،جب ایک حکومت اپنے عوام پر آئینی اور جمہوری احتجاج کا راستہ بند کرتی ہے تو پھر عوام کو مجبوری میں غیرآئینی اور غیر جمہوری راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ اور شفاف انتخابات چاہتی ہے جس میں تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں اندر رہتے ہوئے کام کرینگے،فوج پولنگ سٹیشنز میں اندر اور باہر ہونے کے بجائے الیکشن میں سڑکوں پر ڈیوٹیاں دیگی۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے اپنے خطاب میں ایکشن ان ایڈ سول آرڈیننس کو مارشل لاء کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی ہے،یہ قانون ملک کے کسی دوسرے صوبے میں لاگو نہیں کیا گیا ہے صرف خیبرپختونخوا وہ بدقسمت صوبہ ہے جہاں پر ایسے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں،انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ اس آرڈیننس کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور اُمید ہے کہ عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کریگی۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص بونیر اور سوات میں دہشت گرد وں کی جانب سے ایک بار پھر شہریوں کو بھتہ وصولی کیلئے کالز آرہے ہیں، اگر دہشت گرد اسی طرح متحرک ہوتے رہینگے تو سلیکٹرز کو جواب دینا پڑیگا کہ اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی؟ اے این پی کے نزدیک دہشت گردی کی نئے لہر کی ذمہ داری کپتان کو سلیکٹ کرنے والے سلیکٹرز پر عائد ہوگی۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے اپنے خطاب میں صوبہ بھر کے ڈاکٹرز کے احتجاج پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والوں کا آج ریاست کی جانب سے خون بہایا جارہا ہے،ایک قانون کے ذریعے ہسپتالوں کو نجکاری کی طرف لے جایا جارہا ہے،نئے قانون کے مطابق جو نیا ڈاکٹر آئیگا وہ محکمہ صحت کی بجائے ایک پرائیویٹ کمپنی کا ملازم ہوگا، یہ صورتحال کسی طور پر بھی صوبے کے عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
تقریر کے آخر میں اسفندیار ولی خان نے افغان امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان امن مذاکرات ایک بار پھر شروع ہونے چاہیے،اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بداعتمادیوں کا خاتمہ بھی انتہائی ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب دونوں اطراف سے کوششیں کی جائیں۔
انہوں نےکہا کہ افغان امن مذاکرات میں چین،روس،امریکہ اور پاکستان پہلے سہولت کار بنے اور جب فریقین کے درمیان معاہدہ ہوجائے تو ان ممالک کو ضامن کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top