پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ،والدین پریشان

2018_01_04_38408_1515064067._large.jpg

سیدرسول بیٹنی

پاکستان میں رواں سال جنوری سے جون تک 1300 بچوں کو جنسی زيادتی کا نشانہ بنایا گيا۔

غیر سرکاری تنظیم ساحل نے سال 2019 میں بچوں سے جنسی واقعات کی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق جنوری سے جون تک 1304 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 652، سندھ میں 458، بلوچستان میں 32، خیبرپختونخوا میں 51، اسلام آبادمیں 90 جب کہ آزاد کشمیر میں 18، گلگت بلتستان کے 3 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ مطابق اسی عرصے کے دوران صرف لاہور میں 50بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ 12 بچوں اور بچیوں کو مدرسہ جات میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جنوری سے جون کے دوران 729 بچیاں اور575 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے، اس عرصے میں روزانہ 7 سے زائد بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے۔

بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم سماجی تنظیم "محفوظ بچپن” کے بانی بشریٰ اقبال نے مزکورہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے "دی پشاور پوسٹ” کو بتایا کہ بچوں کے ساتھ جنسی واقعات کے بڑھنے کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر معاشرتی نا انصافی کا سماں ہے، لوگوں کو روزگار نہیں مل رہا جس کی وجہ وہ شدید فراسٹیشن کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ایک ایسے معاشرے میں رہے ہیں جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے اور چونکہ اصل میں مجرموں کو بے نقاب نہیں کیا جاتا اس کے ساتھ ساتھ اصلاحات کا عمل ہر شعبے میں بالکل رُکا ہوا ہے خاص طور پر لاء اینڈ جسٹس کی جو صورتحال ہے وہ کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے،مجرموں کو مثالی سزائیں نہیں مل رہی۔

بشریٰ اقبال نے کہا کہ ان واقعات کا ایک وجہ معاشرے میں احساس ذمہ داری کا بھی فقدان ہے کیونکہ یہ واقعات اگر آج کسی اور کے بچے کے ساتھ ہورہے ہیں تو کل کو یہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لگ یہ ایسا رہا ہے کہ ہم دن بدن اپنے بچوں کے تحفظ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

اُنکا کا کہنا تھا کہ بچے تو معصوم اور چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے ان مجرمانہ ذہنیت کے لوگ اُنہیں آسانی سے گیر لیتے ہیں اور دوسری طرف سزا کا خوف بھی ان مجرموں کے دلوں سے نکلا ہوا ہے اس لئے آئے روز بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

بشریٰ اقبال نے کہا کہ جب تک حکومت،پولیس اور معاشرہ خود اس حوالے سے  ایک جامع منصوبہ ترتیب نہ دیں تب تک ایسے واقعات کا رکںا مذاق ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top