جامعہ پشاور،سی پیک بی آر اے انٹرنیشنل کانفرنس اختتام پذیر

CPEC’-is-spinal-cord.jpg

پشاور: جامعہ پشاور میں سی پیک بی آر اے انٹرنیشنل کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی جس میں وسطی ایشیائی، پاکستان اور افغانستان سے درجن بھرسکالرز نے مقالے پیش کئے ، ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سنٹر پروفیسر شبیر احمد خان نے تحقیقی مقالوں کو جلدی کتاب مرتب کرنے کا اعلان کردیا .

کانفرنس کے اختتامی روز مقالے پیش کئے گئے جس کے پہلے مقالے میں روسی سکالر لیونڈ سیون نے کہا کہ پاکستان چین اور روس دنیا میں ابھرتے ہوئے نئے بلاک کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں سپر پاور نظریہ کمزور اور ملٹی پولر ورلڈ صاف دکھائی دے رہی ہے.

افغان سکالر باقی امین نے کہا کہ امریکہ کا افغانستان سے پر امن غیر انخلا کا پروگرام افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے ، اسکالر شکیل درانی نے کہا کہ سی پیک دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی طرز کا مارشل پلان ہے جس سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔

قازقستان کے اسکالر سید علی نے کہا کہ عالمگیریت اور علاقائیت کے نعرہ عملی طور پر چین اور روس کے ماڈل میں برابری کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ امریکہ عالمگیریت کے نام پر دنیا بھر میں علاقائیت کا منفی پرچار کررہا ہے.

بریگیڈیئر اختر نواز نے کہا کہ بی آر اے اور سی پیک دونوں مل کر خطے کو اہم اقتصادی زون بنا دیں گے قازقستان کے اسکالر ڈاکٹر ایسی نو نے بی آراے اور سلک روٹ کو ترقی کی کنجی قرار دیا۔

تاجکستان کے اسکالر ڈاکٹر بختیار نے کہا کہ علاقائی منفی تاثرات کے خاتمے تک کوئی پائیدار ترقی نہیں ہوسکتی جس کیلئے افغانستان میں متحارب نسلی گروہوں کو مثبت انداز میں ایک ماڈل کے طور پر ایک دوسرے کے قریب لانا ہوگا جبکہ سی پیک سنٹر سے ڈاکٹر امیر خان نے کہا کہ پاکستان کو سی پیک منصوبے عالمی فریم ورک میں رہتے ہوئے مکمل کرنا ہونگے.

کانفرنس کے آخر میں پروفیسر شبیر احمد خان نے سنٹر فار گلوبل و سٹریجک سٹڈیز سی پیک سنٹر اسلام آباد اور وسطی ایشیائی سکالرز کو کامیاب تحقیقی پلیٹ فارم مہیا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ پشاور کا مثبت پیغام اپنے ملکوں میں لے جا کر امن و ترقی اور علاقائی خوشحالی کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top