جنگلات کے بغیر زندگی نا ممکن ہے.کانفرنس شرکاء

DSC_7249.jpg

سیدرسول بیٹنی

جنگلات کی ترقی کیلئے اور عوام میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے شعور وآگاہی پیدا کرنے کیلئے پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور میں دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمنار میں چاروں صوبوں،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے جنگلات کے ماہرین اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور شجرکاری کے اہمیت پر روشنی ڈالی۔سیمینا ر کا موضوع’’سفیدے کے درخت کے فوائد اور نقصانات‘‘کے متعلق ماہرین نے تفصیلی بحث کیا۔ماہرین اپنے مختلف سیشنز کے دوران شجرکاری کے فوائد اور درپیش مسائل کے اوپرتحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔سیمینار میں سفیدے کے درخت کے متعلق عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کا جائزہ لیاگیا اورمختلف زاویوں پر روشنی ڈالی گئی۔سیمینار میں شجرکاری کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے سفارشات مرتب کی گئی تاکہ جامع پالیسی بنانے کیلئے قانون سازوں کے سامنے رکھی جاسکے اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکیں۔

سیمینار کے آرگنائز ڈی جی پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ حکم شاہ نے بتایا کہ اس سیمینار کا مقصد سفیدے کے درخت کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والے غلط افواہوں کے بارے میں شعور اُجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سیمینار میں پورے پاکستان سے جنگلات کے ماہرین شرکت کررہے ہیں اور وہ متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل بنائیں گے جس کو بعد میں قانون سازوں کے ساتھ شریک کیاجائے گا۔

سیمینار کے مہمان خصوصی سیکرٹری جنگلات وماحولیات صوبہ خیبرپختونخوا سید نذر حسین شا ہ اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جنگلات کے بغیر زندگی نا ممکن ہے، قومی سطح پر جنگلات کے حوالے سے شعور کی ضرورت ہے، تا کہ عام آدمی اس اہم مسئلے سے باخبر ہوجائے۔ انہوں نے جنگلات کے ماہرین پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ جنگلات کے مد میں درپیش مسائل کو بین الاقوامی ماحولیاتی تناظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیان کرے تاکہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب ہوجائے بلکہ یہ سفارشات دیر پا اور قابل عمل ہونے کے ساتھ ساتھ عام فہم انداز میں عوامی مفاد سے مطابقت بھی رکھتے ہوں۔

سیمینار میں شریک چوہدری محمد اسلم جوکہ حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ جنگلات ،آبی حیات اور ماحولیات میں بائیوڈئیورسٹی کے ڈائریکٹر ہیں سیمینار کے حوالے سے بتایا کہ اس دو روزہ سیمینار میں سفیدے کے فائدے اور نقصانات کے اوپر ماہرین نے تفصیل سے روشنی ڈالی اور اپنے اپنے تحقیقی مقالے شرکاء کو پیش کئے جس میں سفیدے کے خلاف پائی جانے والی باتوں کا تحقیق کے ذریعے موثرجواب تلاش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم کافی گرم اور تبدیل ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ گرمی کا موسم زیادہ اور سردیاں کم ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ این جی اوز کی طرف سے یہ افواہ پھیلائی گئی ہے کہ سفیدے درخت ٹھیک نہیں ہے دراصل وہ پاکستان کو مستقبل میں خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے جس کے وجہ سے یہ غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

کاشف خان ڈپٹی فارسٹ مینجرسوات ہے سیمینار کے حوالے سے بتایا کہ میں نے اس سیمینار سے بہت کچھ سیکھ لیا کیونکہ پورے ملک سے جنگلات کے ماہرین نے سفیدے کے فائدے اور نقصانا ت کو کافی تفصیل سے گفتگو کا موضوع بنایا اور ہر زاویے سے مذکورہ درخت کو پرکھا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اس سیمینار سے عوام کو بہت شعور ملے گا اور شجرکاری کے مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
سیمینار کے آخر میں شرکاء نے متفقہ طور پر سفیدے کی شجر کاری ، اس کے استعمال اور اثرات کے بارے میں سفارشات پیش کئے جن کو با قائدہ مرتب کرنے کے بعد عنقریب شائع کیا جا ئیگا، تا کہ سرکاری اہلکاروں ، میڈیا سے منسلک افراد کاشتکاروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی رہنمائی کیلئے دستیاب ہوجائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top