افغان امن مذاکرات میں افغانستان کو نظر انداز کرنا قابل تشویش ہے،اسفندیار

1915064-AsfandyarWaliKhan-1550723061-418-640x480.jpg

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا دورہ امریکہ منسوخ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ افغان امن مذاکرات میں سب سے اہم فریق کو نظر انداز کرلیا گیا ہے،اب یہ مسئلہ خطرناک صورتحال اختیار کریگا،ہمارا روز اول سے موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے میں تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے۔

باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اب بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ امن مذاکرات میں دونوں فریقین کو اعتماد میں لینا ضروری ہے،اگر حکومت افغانستان اور طالبان کا اعتماد بحال ہوگا تو یہ معاہدہ پائیدار ہوگا،بصورت دیگر یہ ایک نئی جنگ اور دہشت گردی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا،

انہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن پاکستان اور دنیاکے ساتھ جڑا ہے،اس لیے حکومت پاکستان سمیت تمام ممالک کو بھی اس امن مذاکرات کے کامیابی کیلئے کوششیں کرنی ہوگی،اگر افغانستان میں بدامنی ہوتی ہے تو اُس کا اثرپورے خطے اور بلخصوص پختون قوم پر پڑیگا۔

اے این پی کی مرکزی صدر نے کہا کہ ہم اس موقف کو ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ پاکستان کے پارلیمان میں منظور کرائے گئے قرارداد کی روشنی میں افغانوں کی سربراہی اور انٹرا افغان مذاکرات ہی اس خطے اور افغان جنگ کے خاتمے کا واحد اور پائیدار حل ہے۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارا موقف روز اول سے واضح ہے،ہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی قوم پر تشدد کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرنا بھی دہشتگردی ہے اور کشمیر میں مودی سرکار کھلم کھلا دہشتگردی کررہا ہے،بزور بندوق وہاں کے لوگوں پر اپنے فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت پاکستان اور سلیکٹڈ وزیراعظم سے یہ وضاحت بھی طلب کرتی ہے کہ عمران خان کشمیر کے حوالے سے مشرف کی اُس پالیسی کو عملی شکل تو نہیں دے رہا جب مشرف کے اقتدار میں عمران خان نے اُس پالسیی کی حمایت کی تھی۔

اسفندیار ولی خان نے  کہا کہ دوائیوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے،قرض لیکر حکمران خوشیاں منارہے ہیں۔بجلی،گیس اور تیل کے قیمتوں میں 75فیصد اضافہ ہونے جارہا ہے،کپتان کی ساری معاشی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہے۔

متحدہ اپوزیشن کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی متحدہ اپوزیشن کے فیصلوں کا ساتھ دیگی،ایک سیاسی جماعت کے فیصلے کے ساتھ ہرگز اے این پی نہیں ہوگی۔

سیاسی جماعتوں کے ساتھ ڈیل کی خبروں کی بھی اسفندیار ولی خان نے سختی سے تردید کی اور کہا کہ ڈیل کی خبریں عوام کے حوصلے پست کرنے کیلئے جاری کیے جاتے ہیں،کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہورہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top