انسانی حقوق کے کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے پالیسی گائیڈ لائن کا اجراء

HR-620x330.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور: انسانی حقوق کے کارکنان اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنان کی حفاظت اور حقوق کے حوالے سے پالیسی گائیڈ لائن کے اجرا پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا.

اس پالیسی کا اجراء کا مقصد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے کارکنان کی حفاظت سے متعلقہ قرارداد کی شق نمبر 1 کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیموں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک کو انفرادی اور تنظیمی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ انسانی حقوق کی ترویج اور حفاظت کے حوالے سے اقدامات اٹھائے اور ان بنیادی حقوق اور آزادیوں کو یقینی بنانے کے حوالے سے کام کرے جس کا وعدہ ملکی اور عالمی قوانین میں کیا گیا ہے.

پالیسی گائیڈ لائن میں واضح کیا گیا ہے کے انسانی حقوق کا قومی کمیشن کوشش کرے گا کہ انسانی حقوق کے کارکنان انسانی حقوق کی بہتری اور آئین پاکستان میں دیئے گئے حقوق کی ترویج اور حصول کے حوالے سے اپنا کام بلا خوف خطر قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے جاری رکھ سکیں.

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کس صوبائی کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختون خواہ سر دار علی خان نے کہا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ملک کا انسانی حقوق کے حوالے سے سب سے بالادست ادارہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کے انسانی حقوق کی ترویج اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

این سی ایچ آر نے انسانی حقوق کے کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے پالیسی گائیڈ لائن کا اجرا ملک بھر میں انسانی حقوق کے کارکنان، سماجی تنظیموں اور دیگر اداروں سے مشاورت کے بعد کیا ہے اور ہم اس پالیسی کے نفاذ اور اس میں دیے گئے لاحہ عمل پرعمل درآمد کیلئے پرعزم ہیں.

انسانی حقوق کے کارکن قمر نسیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کے مرکزی اور صوبائی حکومتیں آئین پاکستان اور دیگر قوانین میں دیے گئے انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے حوالے سے ذمہ دار ہیں. انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حقوق کو یقینی بنانے میں حکومت کے ساتھ معاونت کر رہی ہیں اور اس حوالے سے حکومت اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مثالی بنانا ہوگا تاکہ تشدد سے پاک پرامن اور حقوق پر مبنی پاکستانی معاشرہ کی تشکیل کاخواب ممکن ہوسکے.

ثنا ء گلزار ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس پالیسی گائیڈ لائن کے اجراء کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان کے حوصلہ بلند ہوئے ہیں, اس پالیسی گائیڈ لائن میں انسانی حقوق کے کارکنان اس کی حیثیت، ان کی عزت اور ان کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی ہے جو کہ خوش آئند ہے.

صنفی اور جنسی تشدد کی روک تھام کے حوالے سے کام کرنے والے ایوا الائنس کہ کوآرڈینیٹر فدا جان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے پاکستان بھر کی سول سوسائٹی: امید کرتی ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اس پالیسی گائیڈ لائن کے نفاذ، آگاہی اور عمل درآمد کے حوالے سے بھرپور اقدامات اٹھائے گا، پاکستان بھر کی سول سوسائٹی اس پالیسی گائیڈ لائن کے اجرا کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی مشکور ہے اور جہاں ضرورت پڑے گی کمیشن کا ساتھ دے گی.

پختونخوا سول سوسائٹی نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر تیمور کمال نے کہا کہ کسی بھی ملک اور معاشرے میں انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے’ انسانی حقوق: کے کارکنان کا کردار ناگزیر ہے. پاکستان بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کو حقوق اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے حکومت سے اپیل کی کے انسانی حقوق کے کارکنان کی حفاظت کو بہتر بنانے کے حوالے سے عملی اقدامات کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top