روشن فکر قوم پرستی اور پشتون قوم پرست تحریک

C2F18062-00AD-471F-BA91-CC439BE4CCF1_mw1024_s_n.jpg

ڈاکٹر خادم حسین

انسان کسی تن تنہا کسی سیارے پر پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ایک فطری جغرافیے میں جنم لیتا ہے، ایک خاص زمانے کی پیداوار ہوتا ہے اور ایک مخصوص رہن سہن میں پرورش پاتا ہے۔ اسکا طبعی ماحول، اس ماحول میں موجود وسائل اور ان وسائل سے پیداوار حاصل کرنے کیلئے آلات وہ اپنے تاریخی تجربے کے ارتقا کے دوران سیکھتا، بناتا اور سنوارتا ہے۔

پیداواری عمل کے اختیار حاصل کرنے اور پیداوار کی تقسیم و انتظام کیلئے سیاسی نظام وجود میں لاتا ہے۔ وہ اسی فطری جغرافیے کے دوسرے انسانوں کے ساتھ ابلاغ سیکھتا ہے اور اسی کی بدولت اپنے اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے اور مسائل کے حل کیلئے اجتماعی ادارے ایجاد کرتا ہے۔ وہ خوش ہونے اور خوش کرنے کا احساس اسی فطری جغرافیے میں ارتقا کے دوران سیکھتا ہے۔

انسان اس خاص ماحول میں کئی ایک جسمانی، تاریخی، سماجی اور اقتصادی رشتوں کے فیبرکس میں مخصوص تشخص حاصل کرتا ہے جو کسی دوسرے جغرافیے میں ارتقا کرنے والے انسان سے کئی ایک حوالوں سے مختلف بھی ہوتا ہے اور کئی ایک چیزوں میں مشترک بھی ہوتا ہے۔ انسان کے وجود کے ساتھ اسکا جغرافیہ، مخصوص تاریخی تجربات، مخصوص رشتے اور مخصوص جمالیات لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ اسی کو سیاسی اصطلاح میں قوم کہتے ہیں۔

کسی قوم کے اندر کئی ایک نسلیں ہو سکتی ہیں اور کئی ایک زبانیں اور ثقافتیں ممکن ہوسکتی ہیں شرط یہ ہے کی انکے تاریخی تجربات، فطری جغرافیہ، اقتصادی مفادات اور جمالیاتی تخلیقات مشترک ہوں۔ اس لئے اکیلے انسان کا تصور غیر سائنسی بھی ہے، غیر فطری بھی ہے، غیر منطقی بھی ہے اور غیر انسانی بھی۔ اسلئے مطلق انسان پرست ہونا ممکن نہیں۔

کسی قوم کے اندر انسان دوستی یہ ہوگی کہ ہر فرد، ہر نسل، ہر جنس، ہر ثقافت اور زبان کے افراد کو مساوی رول، مساوی حصے اور مساوی اختیار کیلئے جدوجہد کی جائے۔ تب کسی قوم کے اندر زندگی پر امن بھی ہوگی، آسان بھی ہوگی اور خوشحال بھی۔یہ نسل پرستی اور قبائلیت سے لاکھوں برسوں کا ارتقا ہے۔ اسلئے قوم پرستی کو قبائلیت اور نسل پرستی کے ساتھ گڈ مڈ کرنا غیر سائنسی اور غیر منطقی سوچ ہوگی۔

(کچھ لوگ کبھی کبھار ریاست پرستی کو بھی قوم پرستی کے ساتھ گڈ مڈ کر لیتے ہیں۔ ایک قوم کی ریاست بھی ہو سکتی ہے، بغیر ریاست کے بھی ایک قوم کا وجود ممکن ہے، ایک قوم کئی ایک ریاستوں میں بھی ہو سکتی ہے اور کسی قوم کی کئی ریاستیں بھی ہو سکتی ہیں۔) قوم پرستی ایک جدید روشن خیال نقطہ نظر ہے جو بشر دوستی کے تصور سے پھوٹا ہے اور جو فاشزم، شانزم، نسل پرستی اور قبائلیت سے قطعاً مختلف ہے۔

اقوام جب آپس میں مشترکہ انسانی ضروریات اور مسائل کے حل کیلئے آپس میں پر امن تعلقات استوار کرتی ہیں تو ایک انسانی اجتماعیت دوسری انسانی اجتماعیت سے بہت کچھ سیکھ لیتی ہے۔ سیکھنے کے اس اجتماعی عمل سے انسانی تہذیب وجود میں آتی ہے۔ انسانی تہذیبوں کا بھی ارتقا ہوتا ہے لیکن یہ تمام اقوام کیلئے ایک جیسا نہیں ہو تا۔

جب قوم کے اندر افراد یا طبقات، ایک قوم دوسری قوم یا پھر ایک قوم کے افراد دوسری قوم کے افراد کے وسائل یا اختیار پر قبضہ گری کے لئے قوت کا استعمال کرتے ہیں تو جنگیں جنم لیتی ہیں اور تہذیب کا ارتقا ء رک جاتا ہے۔ یہاں انسان دوستی پر امن بقائے باہمی، لوگوں کے مساوی اختیار، جنگوں کے خاتمے،انسانی حقوق کے چارٹر کے نفاذ اور قوموں کے درمیان مساوات کی جدو جہد ہوگی۔ یہاں بھی مطلق انسان کا رٹ لگائے رکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک کی پوری جدوجہد بشر دوستی، سماجی انصاف، صنفی مساوات، قومی خود مختاری، ریاست کے اندر قومی مساوات، عدم تشدد (مسائل کے حل کیلئے طاقت کے استعمال کی بجائے ڈائیلاگ)اور وسائل پر لوگوں کے اختیار اور شراکتی جمہوریت کے گرد گھومتی ہے۔ یہی انسان دوستی ہے جو پائیدار امن کی ضامن ہو سکتی ہے۔

پشتون خطے میں بالعموم اور پاکستان کے اندر بالخصوص پچھلے کئی دہائیوں سے جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہیں۔ ریاست، غیر ریاست اور بین الاقوامی طاقتوں کے شطرنجی چالوں نے پشتونوں کے تشخص کو تحلیل کرنے کی کوشش کی۔ انکی ثقافت کو انتہا پسند فکر کے ذریعے پور پور توڑا گیا۔ انکے اقتصاد کو بارودی مواد سے اڑا کر اور انکے وسائل ان سے چھین کر انکے خطے میں ہتھیاروں، نارکاٹکس، اغوا کاری، مسلح تنظیموں، خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا اقتصاد کھڑا کیا گیا۔

پشتونوں کو لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں سے بے گھر کیا گیا۔ انکی قومی، سیاسی، جمہوری اور روشن فکر سماجی اور سیاسی جماعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ دیا گیا۔ انکے تاریخی حافظے کو ان سے چھیننے کی کوشش کی گئی، انکے سماج کو وحشت ناک خوف کے ذریعے خاموش کر دیا گیا۔

منظم سیاسی جدوجہد کی پارلیمانی سٹریٹجی کے ذریعے پشتونوں نے قوم پرست بیانیہ، جنگی اقتصاد کی ریاستی پالیسیوں میں تبدیلی، انتظامی خود مختاری اور قومی وحدت کے اہداف کا بیانیہ بہت حد تک زندہ رکھا۔ منظم سیاسی عمل کے ذریعے ان اہداف کا حصول طویل المیعاد سٹریٹجی ہے جسکے لئے انتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور جسکے نتائج فوری طور پر نظر نہیں آتے یا بادء النظر میں واضح طور پر نظر نہیں آتے۔

دوسری طرف ریاستی اداروں کے جبر اور بد اعتمادی نے بھی ان آئینی اور پالیسی سطح کے طے شدہ اصولوں کے نفاذ میں روڑے اٹکائے پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور شدہ اٹھارویں ترمیم کو غیر جمہوری طریقے سے لپیٹنے کے لئے ریاستی اداروں کا سر گرم عمل ہونا اسکی واضح مثال ہے۔

روشن فکر پشتون قوم پرست تحریک کچھ عرصہ پہلے باچا خانی کی اصطلاح کے ذریعے بھی پہچانی جانے لگی ہے۔ باچا خانی در اصل کیا ہے؟باچا خانی بشر دوستی کی بنیاد پر سماجی انصاف پر مبنی معاشرتی رشتوں کا قیام ہے۔ یہ معاشی وسائل و پیداوار میں تمام طبقات، قوموں، مختلف العقائد لوگوں اور نسلوں کے مساوی حقوق اور مساوی مواقع کا فکری فریم ورک ہے۔

یہ دھرتی کی دانش و حکمت، ثقافتی رنگا رنگی اور جمالیاتی اقدار جو جدید تہذیب سے جڑی ہوں کی اساس پر اجتماعی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ یہ تکثیریت اور پلورلزم کا دوسرا نام ہے۔ یہ پدر سری کے خلاف صنفی مساوات کی جدوجہد ہے۔ باچا خانی قوت کے استعمال اور جنگی جنون کو انسانی تکریم کی ضد سمجھتی ہے۔ ڈائیلاگ اسکا مغز ہے۔ باچا خانی جبر اور غلامی کے خلاف عدم تشدد پر مبنی انتھک جدوجہد کا نام ہے۔

باچا خانی قوموں کے درمیان مخاصمت اور برتری کے غیر انسانی جذبات کی بجائے قوموں کے درمیان ڈائیلاگ اور پر امن بقائے باہمی کا فلسفہ ہے۔ باچا خانی عالمی سطح پر نا ہمواری اور اسلحے کی دوڑ کو انسانی تہذیب کیلئے زہر قاتل سمجھتی ہے۔

باچا خانی ایک متبادل اور امتیازات سے پاک ایک پر امن دنیا کا تصور ہے۔ یہ موجودہ تہذیب کے زہر ناک اجزا کیلئے تریاق ہے۔ ریاست کی مقتدرہ کو سمجھ لینا چاہئے کہ سیاسی تحریکوں اور جماعتوں کو ریاستی فسطائی جبر، گولی اور لاٹھی سے تحلیل نہیں کیا جا سکتا تو گرفتاریوں اور سیاسی میدان سے نکالنے اور انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے کیسے تحلیل کیا جاسکتا ہے۔

خدائی خدمتگار تحریک جو بعد میں نیشنل عوامی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ناموں سے وفاقی پارلیمانی نظام، سماجی انصاف، صنفی مساوات اور قومیتوں کی خود مختاری کیلئے جدجہد کرتی رہی اور اب عوامی نیشنل پارٹی کی صورت میں انہی مقاصد کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اس روشن فکر اور عدم تشدد کی تحریک پر جبر کی مختصر تاریخ یہ ہے۔

1948ء بابڑہ چارسدہ میں احتجاجی جلسے پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور 600 کارکنوں کو شہید کیا گیا۔1958-1968 باچا خان سمیت پوری قیادت کو زندانوں میں ڈالا گیا اور جلا وطن کیا گیا۔

1975ء میں پوری قیادت اور کیڈر پر غداری کے مقدمے درج کرکے پابند سلاسل کیا گیا اور نیشنل عوامی پارٹی کو کالعدم قرار دیا گیا۔1980ء اور 1990ء کی دہائی: کارکنوں اور قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا، ٹارگٹ کلنگ کی گئی اور غداری کے ٹھپے لگائے گئے۔

2007 سے لیکر اب تک۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کو بموں سے اڑایا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں بیدردی سے مارا گیا اور کرپشن کے جعلی بیانئے کے ذریعے میڈیا پر انکی کردار کشی کی گئی۔ تقریبا 1200کارکنوں کو قتل کیا گیا۔یہ روشن فکر تحریک اس دور میں اور بھی زیادہ منظم طریقے سے میدان میں کھڑی ہے۔ اس تحریک کی چوتھی نسل اب قیادت سنبھال رہی ہے۔

اس تحریک نے اب متبادل میڈیا وجود میں لانے کا بندوبست بھی کر لیا ہے، تحقیق اور مطبوعات کا ایک فعال ادارہ بھی کھڑا کیا ہے اور تعلیم کے متبادل بیانئے کیلئے ایک فعال ایجوکیشن فانڈیشن کو بھی کھڑا کیا ہے۔

تحریک کی فعال نوجوان قیادت اس بات کا مکمل شعور رکھتی ہے کہ عوام کے ساتھ رابطہ، تمام طبقات کی شمولیت اور تحریک کی شاخوں کو منظم کرکے انسان دوستی کی بنیاد پر ریاستی اداروں کی تعمیر، عدم تشدد کا حصول اور پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے، مادی ترقی، قومی خودمختاری اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تجارتی و ثقافتی تعلقات کی استواری کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

تاریخی شعور کا تقاضا ہے کہ یہ بات سمجھی جائے کہ پاکستان کے اندر زیر دست اقوام اور بالخصوص پشتونوں کو نشاہ ثانیہ کی طرف جانا ہے یا پھر مزید تھوڑ پھوڑ کا شکار ہونا ہے۔

ڈاکٹر خادم حسین ایک محقق اور تجزیہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت باچاخان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top