مائننگ کانوں میں حادثات کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات کی جائے،محمود خان

.jpg

پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے درہ آدم خیل میں ماڈل کول مائن قائم کرنے کی تجویز اور نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں مائننگ ایریاز تک رسائی کیلئے سروس روڈز کی تعمیر و بحالی کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاﺅ س پشاور میں محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، صوبائی وزیر برائے معدنیات ڈاکٹر امجد علی خان، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ ،ڈی جی مائنز ، سیکرٹری خزانہ و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اُنہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے مائننگ علاقوں میں حادثات کی روک تھام کیلئے حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوں نے صوبے میں غیر قانونی مائننگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ صوبے کی معیشت کو استحکام دینے کیلئے مائننگ کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ محاصل کا حصول ممکن بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مائننگ کے شعبے میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھرپور سہولت فراہم کی جائے گی ۔

اجلاس کو قبائلی اضلاع میں سرمایہ کاروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے منرل سیکٹر گورننس ایکٹ 2017 ءمیں ترامیم ، مائن سیفٹی اور ریگولیشن ایکٹ2019 ءمیں ترامیم ، جدید وزن سٹیشنزکا قیام، قبائلی اضلاع کے منرل علاقہ جات تک سروس روڈز کی تعمیرات ، قبائلی اضلاع کے مائننگ ایریاز میں ریسکیو سب سٹیشن کے قیام ، درہ آدم خیل میں ماڈل کول مائن کے قیام، ڈیجٹائزیشن اور ون ونڈو خدمات کی فراہمی ، غیر قانونی مائننگ کی مانیٹرنگ جبکہ غیر قانونی مائنگز سے جرمانوں کی مد میں محاصل اور اب تک کی کارکردگی پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں معیشت کو استحکام دینے کیلئے شعبہ مائنز میں جدید اصلاحات متعار ف کی جائیں گی تاکہ محاصل میں بڑھوتری ممکن ہو سکے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں معدنی وسائل سے بھر پور استفادہ کیا جائے گاجس سے صوبہ معاشی طور پر مستحکم ہو گااور قبائلی اضلاع میں بھی معاشی ترقی ممکن ہو سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top