چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج ہوگی

203133_4633981_updates.jpg

وقار علی شاہ

اسلام آباد: سینیٹ کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو  عہدے سے ہٹانے کی قرار دادوں پر رائے شماری آج ہوگی۔

حزب اختلاف کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاچکی ہے جس کے جواب میں حکومت اور ان کے اتحادیوں نے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ان کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔

اپوزیشن سمجھتی ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں جبکہ حکومت کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا پر اعتماد نہیں رہا۔

دوپہر دو بجے شروع ہونے والے اجلاس میں سینیٹ (ایوان بالا) میں اعتماد کی بڑی جنگ آج ہوگی جس میں حکومت اور اپوزیشن کا نمبرز گیم کی بنیاد پر ٹکراؤ ہوگا لیکن اس جنگ سے قبل ہی سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے اور دونوں جانب سے عددی اکثریت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

اس وقت سینیٹ میں کل 103 سینیٹرز ہیں جس میں اپوزشن کے پاس 67 ارکان ہے،ان میں جماعت اسلامی کے 2 ارکان ہے جبکہ جماعت اسلامی نے اس پورے عمل میں غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا ہے

اپوزیشن کے پاس 103 کے ایوان میں سے 65 ووٹ ہیں،جس میں مسلم لیگ (ن) کے 30،پیپلز پارٹی کے 21،نیشنل پارٹی کے 5،پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے 4،جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 4 اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک سینیٹر ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر ملک سے باہر ہیں جس کے بعد اپوزیشن کو توقع ہے کہ ن لیگ کے 64 ارکان چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے۔

دوسری جانب حکومتی بینچز پر 36 سینیٹرز موجود ہیں پاکستان تحریک انصاف کے 14،بلوچستان عوامی پارٹی کے 8،سابقہ فاٹا کے 7،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 5،مسلم لیگ فنکشنل 1 اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) 1 سینیٹر ہے۔

اس سیاسی گرما گرمی میں دونوں جانب سے عددی اکثریت ظاہر کرنے کے لیے سینیٹ ارکان کی میٹنگز، کارنر میٹنگز، ناشتے، ظہرانے اور عشائیے رکھے جارہے ہیں۔

اپوزیشن نے صادق سنجرانی کی جگہ میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top