کیا وفاقی حکومت سابقہ فاٹا میں ٹیکس کا نفاذ کرسکے گا ؟

698882c3-1cea-4cb9-be55-3b46399cb6eb.jpg

نسیم مندوخیل

اسلام آباد: وفاقی بجٹ برائے سال 20-2019 میں قبائلی عوام کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے خلاف فاٹا کے موجودہ ممبر قومی اسمبلی اور سابقہ ممبران قومی اسمبلی نے مشترکہ طور پر نیشنل پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفریس کا انعقاد کیا جس میں این اے 51 فاٹا سے جمعیت علماء السلام  (ف) کے رکن قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور بیٹنی ،سابق رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گُل،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر عبدالطیف آفریدی ،پاکستان پیپلز پارٹی کے فاٹا صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان اور قومی وطن پارٹی کے سینئر رہنما ہاشم بابر کے علاوہ قبائلی علاقات جات سے تعلق رکھنے والے صنعت کاران اور مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس میں وفاقی حکومت سے پرزُور مطالبہ کیا گیا کہ وہ گزشتہ حکومت کی طرف سے فاٹا کے لوگوں کے ساتھ کی گئ وعدے کو نہ بھولیں جس میں فاٹا کو  5 سال تک ٹیکس کا چھوٹ دیا تھا تاکہ فاٹا کے عوام اور صنعت کاران اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔

پریس کانفرس  سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے مفتی عبدالشکور بیٹنی نے کہا کہ پچلھے سال انضمام کے وقت تمام سیاسی جماعتوں بشمول پاکستان تحریک انصاف نے فاٹا کے عوام کے عوام کے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ کہ 5 سال تک وہاں کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ابھی  وفاقی بجٹ میں مرکزی حکومت کی طرف سے قبائلی صنعت کاروں پر نئے ٹیکس لاگو کئے جا رہے ہیں جس میں خصوصاً سٹیل اور گھی ملز شامل ہیں۔ہماری اس کانفرنس کا مقصد ہے کہ پوری دُنیا کو معلوم ہوسکے کہ یہ قبائلی عوام کے ساتھ سر از سر زیادتی ہے اُن کا کہنا تھا کہ پہلے قباٰئلی عوام کے مرضی کے بغیر  انضمام کیا گیا اور اب وہاں نئے نئے ٹیکس لاگو کر رہے ہیں جس کی ہماری جماعت بھرپور مخالفت کر رہی ہے اور اس ضمن میں قبائلی صنعت کاروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

سابق رکن قومی الحاج شاہ جی گُل نے کہا کہ اس نئے بجٹ میں فاٹا کے عوام پر جو ٹیکس نافذ کیا گیا ہے یہ اقدام واضح طور پر مرکزی حکومت کی طرف سے قبائل عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تو نہ روزگار اور نہ صنعتیں ہے کیونکہ پچھلے 15 سال سے جاری جنگی حالات نے قبائلی عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے اور اب اگر یہ ظالمانہ ٹیکس لاگو کیا گیا تو یہ فاٹا کے عوام پر معاشی حملہ ہوگا جس کو کسی صورت میں برداشت نہیں گیا جائے گا۔

پشاور ہائی بار کے صدر اور اے این اپی کے رہنما عبدالطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ  دہشت گردی کے نام  نہاد جنگ کے آڑ میں فاٹا کے تمام میں بازار مسمار کردئیے گئے جس میں باڑہ بازار،جنڈولہ بازار ،وانا بازار اور میران شاہ  بازار نمایاں ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایک میران شاہ بازار میں 10 ہزار اور 4 سو کے لھگ بھگ دوکان مسمار کردئیے گئے وہاں ہر موجود سامان،لوہا اور دوسرے قیمتی اشیاء کو بے دردی سے لوٹا گیا اور اب اس بجٹ میں قبائل صنعت کاروں پر 17  فیصد سنڑل ایکسائز ڈیوٹی لاگو کیاجاریا ہے یہ ایک  ظالمانہ ٹیکس ہے جو کہ قبائلی عوام کی معاشی قتل کے مترادف ہوگی جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھے گے اور آئینی و قانونی طریق کار کے  مطابق  جنگ لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ابھی گرفیو ہے وہاں میڈیا اور ہیومین رائٹس کمیشن کے نمائندوں کو نہیں جانے دیا جارہا۔

قومی وطن پارٹی کے سینئر رہنما ہاشم بابر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ملک کے معاشی حالات کو تباہی کے دہانے ہر پہنچا دیا ہے اور اس کے علاوہ ملک کی خارجہ پالیسی بالکل ناکام ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی معاشی پالیسی نہیں جس سے وہ عوام کو مطمئن کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہے اور وہاں کوئی صنعت نہیں ہے تو اب وہاں یہ نئے ٹیکس اور بھی قبائلی عوام میں احساس محرومی کو پیدا کرے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی اخونزدہ چٹان نے کہا کہ انضمام سے پہلے تو یہ ہمیں یہ بتایا جاتا تھا کہ وہاں عدالت  اور پولیس کا نظام نہیں ہے لیکن اب تو سب کچھ ہیں وہاں  پر پھر یھی نا انصافی کیوں؟کہ کبھی غیر اعلانیہ کرفیو لگتی ہے تو کبھی الیکشن مہم میں امیدواروں کو مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔اںہوں نے کہا فاٹا کے نوجوانوں کو ایک مخصوص نعرے کی بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے حالانکہ یہ نعرہ تو یہاں اسلام آباد کے شاہراہ دستور اور سپریم کورٹ میں بھی بلند کیا گیا یے۔انہوں نے کہ رمضان شریف میں شمالی وزیرستان میں 15 بے گناہ نوجوانوں کو شہید کردیا گیا اور 40 سے زائد کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا لیکن عوام کے سامنے اصل حقائق نہیں لائی گئی۔

پریس کانفرس کے آخر میں تمام مشران نے متفقہ طور پر حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر قبائلی عوام کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا تو پھر اس کے بہت خطرناک نتائج سامنے آئیں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top