قائداعظم یونیورسٹی میں پشتو زبان اور ادب کے ترقی بارے سیشن کا انعقاد

fb31fc61-354c-490a-a738-1e7e0639083c.jpg

محمد ادریس

اسلام آباد: قائد اعظم یونیورسٹی میں پشتو زبان کی رسم الخط سیکھنے کے لیے پشتون طلباء کا اپنی مدد آپ کے تحت پشتو زبان اور ادب کی ترقی کیلئے سفر کا آغاز کیا اس حوالے سے آج پشتون سٹوڈنٹس کونسل قائد اعظم یونیورسٹی کی جانب سے یونیورسٹی میں زیرتعلیم طالبعلموں کیلئے پشتو زبان کے رسم الخط سیکھنے کیلئے ایک خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں پشتون قوم سے تعلق رکھنے والے طلباء وطالبات  نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

سیشن کا مقصد پشتون طالبعلموں کو اہنے مادری زبان پشتو کے حروف تہجی اور رسم الخط سے آشنا کرنا، پشتو ادب اور ثقافت سےمحبت کا ٖجذبہ بیدار کرنا تھا۔

سیشن کے سپیکر حزب اللہ عارفی تھے جو کہ  افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھتے ہیں اورجامعہ قائد اعظم میں انٹرنشنل ریلیشنز کے طالب ہے ۔

سیشن میں شریک خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے تعلق رکھنے والی اور قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل کی طالبہ سمیہ ناز نے "دی پشاور پوسٹ "کو بتایا کہ میں نے زندگی میں پہلی دفعہ پشتو زبان کے حروف تہجی کے بارے میں بہت تفصیل اور پُر امن دوستانہ ماحول میں سیکھنے اور جاننے کو ملا۔انہوں نے بتایا کہ اس پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ پشتو ربان حروف تہجی کی تعداد کتنی ہے اور پشتو زبان کے کتنے لہجے ہیں۔سمیہ نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ علاقائی زبانوں کے سیکھنے اور ترویج  کیلئے ایک الگ شعبہ قائم کریں تاکہ طالبعلموں کو اپنے مادری اور علاقائی زبانوں کے اہمیت کے بارے میں جان سکیں۔

لیکچر کے آرگنائزر اور پشتون سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین جواد خان یوسفزئی نے بتایا کہ اس لیکچر کا مقصد پشتون طلباء کو پشتو زبان کے ادب اور ثقافت سے روشناس کرانا ہے تاکہ طلباء اپنے مادری زبان کے تاریخ کے بارے میں جان سکیں۔ ۔انہوں نے بتایا کہ دُنیا میں اُن اقوام نے ترقی کی ہے جو اپنے مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔جواد خان نے بتایا کہ ہماری خواہش ہے کہ  پشتو زبان بھی دوسرے ترقی یافتہ زبانوں کی دوڑ میں شامل سکیں۔انہوں نے بتایا کہ ایسے سرگرمیوں سے طلباء کے اتحاد و اتفاق میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طلباء کو  دوستانہ ماحول میں سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔

سلمان علی بیٹنی بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ہے اور قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں پڑھاتے ہیں طلباء کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پشتون سٹوڈنس کونسل کی ایسے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں سے سٹوڈنٹس پالیٹکس کو تقویت ملے گی ۔انہوں نے بتایا کہ ایسے سٹڈی سیشنز سے پشتون طلباء کے تخلیقی ،تعلیمی اور تدریسی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور پشتو زبان،ادب اور ثقافت کو بھی ترقی ملے گی۔بیٹنی نے کہا کہ ایسے سرگرمیوں سے طلباء میں سیکولر اور ترقی پسند سوچ کو پروان چھڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اُن میں سیاسی پُختگی ،برداشت اور امن کی فضا کو فروغ ملے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top